بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اربعین حسینیؑ کی عظیم ریلیاں گذشتہ سالوں میں خطے کی اقوام، خاص طور پر ایران، پاکستان اور عراق کے درمیان دینی و عوامی تعلقات کے اہم ترین مظاہر میں سے ایک بن گئی ہیں۔ تاہم، ہزاروں پاکستانی زائرین جو ہر سال اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت کے جذبے کے تحت اس عظیم اجتماع میں شرکت کے لئے تیار ہوتے ہیں، کئی سالوں سے آمد و رفت، نقل و حمل اور زیارتی راستوں تک رسائی کے سلسلے میں چیلنجوں اور پابندیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں؛ اس مسئلے کا حل پاکستان کے مذہبی، سماجی اور عوامی حلقوں کے مسلسل مطالبات میں سے ایک بن گیا ہے۔
گذشتہ سالوں میں، پاکستان کے علماء، مذہبی شخصیات، جماعتیں اور دینی ادارے بارہا زائرین کے سفر میں سہولت، زیارتی راستوں کی حفاظت، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اسی سلسلے میں، بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ علماء، دانشوروں، سماجی کارکنان اور دونوں ممالک کے ذمہ داران کے ساتھ خصوصی گفتگو اور متعلقہ مسائل سے متعلق رپورٹیں شائع کرکے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے؛ اور پاکستانی زائرین کے مطالبات کے لئے عملی اور پائیدار حل تلاش کرنے کی غرض سے، اربعین حسینیؑ کی عظیم ریلیوں میں شرکت کو ممکن بنانے کے مسئلے کی پیروی کرنا چاہتی ہے۔
شہر قم میں مقیم (اردو بولنے والوں کے لئے) تحریک الانتظار کے سیاسی، سماجی شعبے کے ڈائریکٹر، مؤسسۃ الضحیٰ کے مدیر، بین الاقوامی میدان میں سرگرم مبلغ اور پاکستان علماء کونسل کے رکن نے ابنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں ایران اور پاکستان کے عوامی تعلقات کے پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دینی رسومات اور زیارت، دونوں قوموں کے درمیان رابطے کا سب سے اہم ذریعہ ہیں اور ان روابط کی توسیع دونوں ممالک کے اسٹراٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
انھوں نے اس گفتگو میں اربعین حسینی کی آمد پر پاکستانی زائرین کی آمد و رفت کے راستوں کو دوبارہ کھولنے اور سہولت فراہم کرنے کی ضرورت، زائرین کی نقل و حمل کی سہولیات کے تحفظ اور انہیں منظم بنانا، نیز ایران و پاکستان کے درمیان سائنسی، ثقافتی تعاون اور دانشوروں کے درمیان تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ دونوں معاشروں کی مشترکہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
دینی رسومات؛ دو قوموں کے درمیان رابطے کا سب سے اہم ذریعہ
تحریک الانتظار کے سیاسی سماجی شعبے کے ڈائریکٹر نے دونوں قوموں کے تعلقات میں دینی رسومات کے مقام و کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پاکستانی عوام امام رضا (علیہ السلام)، عتبات عالیہ اور مقامات مقدسہ کی زیارت اور اربعین ریلی میں شرکت میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور بہت سے خاندان مہینوں پہلے سے اس سفر کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: یہاں تک کہ جن افراد کو ان زیارتی عزیمتوں میں شرکت کا موقع نہیں ملتا، وہ نوجوانوں اور زائرین کو زیارات پر بھیجنے کے لئے مالی امداد جمع کرتے ہیں؛ لہٰذا ان زیارتوں سے محرومی کی وجہ سے پاکستانی عوام پر نمایاں نفسیاتی اور جذباتی اثرات مرتب کرتی ہے۔
پاکستانی زائرین کے لئے زمینی راستے کھولنے کی ضرورت
حجت الاسلام مجلسی نے گذشتہ سالوں میں پاکستانی زائرین کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: بعض زمینی راستوں کی بندش سبب بنتی ہے کہ بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین اربعین کے مراسمات میں شرکت کا موقع کھو بیٹھیں۔
انھوں نے زور دے کر کہا: پاکستانی عوام کو توقع ہے کہ ایران اور پاکستان کی حکومتیں باہمی تعاون سے زائرین کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے ضروری اقدامات کریں اور اگر سیکیورٹی کے تحفظات ہوں تو مناسب متبادل حل فراہم کریں۔
ایران کی عوامی خدمات سے پاکستانی زائرین کا اطمینان
پاکستان علماء کونسل کے اس رکن نے پاکستانی زائرین کو فراہم کی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: ایرانی عوام اور اداروں نے گذشتہ سالوں میں پاکستانی زائرین کو قابل قدر خدمات فراہم کی ہیں اور ان خدمات سے عوامی اطمینان کی سطح بلند رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ایران میں مواکب، عوامی گروپ اور مختلف اداروں نے زائرین کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن پھر بھی نقل و حمل کے شعبے، کرایوں میں اضافے اور مسافر بردار گاڑیوں کے معیار میں کچھ مسائل موجود ہیں اور ان مسائل پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
زائرین کی نقل و حمل کے تحفظ اور انتظام کو بہتر بنانے کی ضرورت
حجت الاسلام مجلسی نے پاکستانی زائرین کو پیش آنے والے ٹریفک حادثات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ضروری ہے کہ بسوں اور نقل و حمل کی سہولیات کی تکنیکی حالت پر زیادہ نگرانی کی جائے تاکہ ناگوار حادثات کا سدباب کیا جا سکے۔
انھوں نے یہ بھی تجویز دی کہ زمینی سفر پر پابندیاں جاری رہنے کی صورت میں، پاکستانی زائرین کے لئے، خصوصی معاونت کے ساتھ، ہوائی اور بحری نقل و حمل کی گنجائش کو استعمال کرنے کا امکان فراہم کیا جائے تاکہ سفر کے اخراجات کم ہو سکیں۔
علمی و تعلقات کہ فروغ؛ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فراموش شدہ شدہ ضرورت
پاکستان علماء کونسل کے رکن نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں دونوں ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا: ایران و پاکستان کے دانشوروں، سائنسدانوں، جامعات اور علمی مراکز کے درمیان کمزور رابطہ دوطرفہ تعلقات کے شعبے کے موجودہ خامیوں میں سے ایک ہے۔
انھوں نے مزید کہا: علمی و سائنسی کاروانوں کی تشکیل، طلبہ کا تبادلہ، جامعات کے درمیان تعاون اور باہمی علمی و سائنسی دورے دونوں قوموں کے تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حجت الاسلام مجلسی نے واضح کیا: دونوں ممالک کے درمیان بے شمار ثقافتی اور لسانی اشتراکات ہیں اور اردو زبان کے الفاظ کا ایک قابل ذکر حصہ فارسی سے ماخوذ ہے؛ لہٰذا ثقافتی اور جامعاتی تعاون کی ترقی کے لئے ضروری بنیادیں ـ پہلے سے کہیں زیادہ ـ فراہم ہیں۔
عوامی تعلقات، ایران و پاکستان کے تعلقات کے مستقبل کی ضمانت
مؤسسۃ الضحیٰ کے ڈائریکٹر نے آخر میں تاکید کی: جتنا کہ زیادہ ایران و پاکستان کے درمیان عوامی، علمی، ثقافتی اور زیارتی تعلقات فروغ ملے گا، دونوں قوموں کے درمیان رشتہ اتنا ہی گہرا اور پائیدار ہوگا۔
انھوں نے یاد دہانی کرائی: ایران و پاکستان کے تعلقات کا مستقبل کسی بھی چیز سے زیادہ انہی عوامی تعلقات، اسلامی اشتراکات اور ثقافتی تعاون پر استوار ہے اور اس قیمتی موقع اور بیش بہاء امکان سے امت اسلامیہ کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ