4 جون 2026 - 19:26
حصۂ دوئم | ایک پیشین گوئی جو پوری ہوئی؛ 'تاریخ کی صحیح سمت' کا پتہ ایک خط میں"

امریکی نوجوانوں اور طلباء کے نام رہبر شہید کا خط کی اشاعت کے سالگرہ کے موقع پر، ریاستہائے متحدہ میں پچھلے دو سالوں کے دوران پیش آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ اس ملک کی نوجوان نسل کی بے مثال بیداری کو ظاہر کرتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آزاد میڈیا میں فیلڈ رپورٹس اور فاش ہونے والی دستاویزات کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی طلباء، انسانی حقوق کے دوہرے معیار، جنگجو لابیوں کے اثر و رسوخ اور منظم سنسرشپ کو سمجھتے ہوئے، بالکل اسی بلاواسطہ حقیقت شناسی تک پہنچ گئے ہیں جس کو امام شہید خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے اپنے پیغام میں 'تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑے ہونے' سے تعبیر کیا تھا۔

حصۂ دوئم:

3۔ آزادی اظہار کی پرتشدد سرکوبی، آزادی کے مبینہ گہوارے میں

آزادی اظہار (امریکی آئین کی پہلی ترمیم) حالیہ احتجاجات کے دوران شدت کے ساتھ متنازعہ بن گئی۔ سی این این کے جاری کردہ تصاویر کے مطابق، اوہائیو اور انڈیانا یونیورسٹیوں کی عمارتوں کی چھتوں پر طلباء کے خیموں پر قابو پانے کے لئے پولیس کے اسنائپرز تعینات کئے گئے اور امریکی سرکار کے اس اقدام نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ جبری کارروائی سے بڑھ کر، پولیٹیکو میگزین نے کانگریس میں 'یہود دشمنی سے آگاہی' کے بل کی منظوری کی خبر دی جس کے تحت یونیورسٹیوں میں صہیونی ریاست پر شدید تنقید کو ـ یہودی دشمنی (Antisemitism) کے عنوان سے ـ جرم قرار دے کر (ہارورڈ اور پنسلوانیا یونیورسٹیوں کے سربراہان جیسے) یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور سربراہان کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔

4۔ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے آمرانہ تسلط سے عبور

ذرائع ابلاغ نے ظالم اور مظلوم کا کردار بدلنے کی کوشش کی مگر کیسے؟ انٹرسیپٹ نیوز ویب سائٹ (The Intercept) اور گارڈین نے علیحدہ علیحدہ انکشافات میں 'سی این این کے داخلی پروٹوکولز' اور نیویارک ٹائمز ورک پلان کا پردہ فاش کیا؛ ایسی دستاویزات جن سے پتہ چلا کہ صحافیوں کو 'نسل کشی' جیسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا گیا تھا اور خبروں کو اشاعت سے پہلے منظور کروانا، ضروری تھا۔ اس منظم سنسرشپ کے انکشاف کے بعد، مغربی نوجوانوں نے حقیقت تلاش کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا رخ کیا؛ ایک ایسا اقدام جس کی وجہ سے امریکی کانگریس نے 'ٹک ٹاک' جیسے پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کی وسیع کوششیں شروع کر دیں۔

بہرحال، مغربی جوانوں کی سوچ اور فکر بدل گئی ہے

ان خبروں اور پہیلیوں کو اکٹھا کرنے سے نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ شہید رہبر معظم کا خط، درحقیقت 'مغرب میں ایک "ادراکی کُرِیز" (فکری پر جھاڑنے اور فکر و ادراک کی کینچلی بدلنے)' کی درست عکاسی کرتا ہے۔

جن نوجوانوں نے اپنی آنکھوں سے ہیگ عدالت پر امریکی پابندیوں، آئی پیک کے پیسے کے زیر اثر کانگریس کے اراکین نیز صدر اور ججوں کے انتخاب، یونیورسٹیوں کی چھتوں پر اسنائپرز کی تعیناتیوں، اور خبروں پر سنسرشپ دیکھ لیا ہے۔

وہ اب مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے غیر فعال قاری و صارف و ناظر نہیں رہے۔

وہ ـ جیسا کہ اسلامی انقلاب کے رہبر شہید امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے خط میں زور دیا گیا تھا، ـ فکری اور اخلاقی مزاحمت کا ایک نیا محاذ تشکیل دے رہے ہیں؛ ایک ایسا محاذ جس نے 'تاریخ کی صحیح سمت' میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مرتضی شفقی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha