31 مئی 2026 - 12:39
‌آبنائے ہرمز بین الاقوامی آب راہ نہیں، بلکہ ایران اور عمان کے ارضی پانیوں میں شامل ہے، آسٹریلوی تحقیقاتی مرکز

آسٹریلیا میں "مطالعاتی مرکز برائے انسداد بالادستی" کے  سربراہ نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ 'آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبنائے ہے"، اور کہا: یہ اسٹراٹیجک آبنائے مکمل طور پر ایران اور عمان کے ارضی پانیوں میں واقع ہے۔ / ایران اور عمان کے درمیانی پانیوں میں کوئی بین الاقوامی آب راہ، نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آسٹریلیا کے "مطالعاتی مرکز برائے انسداد بالادستی (Centre for Counter Hegemonic Studies [CCHS]) کے  سربراہ "ٹم  اینڈرسن (Tim Anderson)" نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ 'آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبنائے ہے"، اور کہا: یہ اسٹراٹیجک آبنائے مکمل طور پر ایران اور عمان کے ارضی پانیوں میں واقع ہے۔

اینڈرسن نے کہا:

- آبنائے کا باریک ترین حصہ صرف 21 میل چوڑا ہے، حالانکہ

- بحری حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن نے ارضی پانیوں کو ساحل سے 13/8 میل تک، قرار دیا ہے۔ 

- عمان نے اس کنونشن کو منظور کیا ہے جبکہ

- ایران اور امریکہ نے اسے منظور نہیں کیا ہے۔

- آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران اور عمان کے ارضی پانیوں میں واقع ہے اور

- ایران اور عمان کے درمیانی پانیوں میں کوئی بین الاقوامی آب راہ، نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha