1 مئی 2026 - 19:56
دشمن کا اعتراف؛ ایران کی عالمی برتری

ایران پر تاریخ کی سب سے بڑی اور ظالمانہ امریکی-مغربی-صہیونی-عربی یلغار کے نتیجے میں بھ، ایران نہ صرف کمزور نہیں ہؤا بلکہ آج دشمن بھی عالمی طاقت کے دائرے کے نقشے میں ایران کی برتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی ریاست کے قومی سلامتی کے ادارے (INSS) نے حال ہی میں شائع کردہ ایک مضمون میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیت اور اسٹراٹیجک اثر و رسوخ کے سامنے مغربی محاذ کی مجبوری اور کمزوری کا کھلم کھلا اعتراف کیا ہے۔ اس مضمون کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

الف: یورپ کی جیو-پولٹیکل تنہائی:

یورپ کو جنگی فیصلوں میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور یہ ایک "بے بس تماشائی" بن کر رہ گیا ہے۔

ب: بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر گہری خلیج:

ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیاں (بشمول گرین لینڈ کا معاملہ) اور یورپ کی امریکہ پر بداعتمادی، مغربی بلاک کی ہم آہنگی کو انتہائی نچلی سطح پر لے آئی ہے۔

ج: مغرب کی اقتصادی زدپذیری:

آبنائے ہرمز پر ایران کے ذہین انتظام، نے یورپ کی توانائی کی سلامتی اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ٹریگر-مکانزم کو چالو کرنے اور سپاہ پاسداران کو دہشت گرد قرار دینے پر مبنی مخالفانہ فیصلے کے باوجود، یورپ تہران کا عزم متاثر کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ہ: ایران کے "ہائبرڈ جنگ" سے خوف:

ایران کی اس طاقت کا اعتراف کہ وہ غیر متناسب جنگ (Asymmetric warfare) سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف جغرافیائی علاقوں میں مغربی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس مضمون میں ایران کی "فعال مزاحمت" کی حکمت عملی کی فتحمندی کی تصدیق کی گئی ہے اور مستقبل کے لئے کچھ پیش گوئیاں کی گئی ہیں، جیسے:

1۔ سبز براعظم میں امریکی بالادستی کا خاتمہ:

واشنگٹن اب اپنے روایتی اتحادیوں کو اپنا شریک نہیں سمجھتا۔ نیٹو کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں اور ڈنمارک کی سرزمین (گرین لینڈ) پر قبضے کی کوشش، نے ایران کے لئے ایک بے مثال موقع پیدا کردیا ہے کہ وہ  پابندیوں اور سیاسی دباؤ کو بے اثر کرنے کے لئے یورپی دارالحکومتوں اور واشنگٹن کے درمیان خلیج سے فائدہ اٹھائے۔

2- میدانی مساوات میں ایران کی برتر طاقت:

اس اعتراف کے ساتھ کہ صہیونی ریاست اور امریکہ ایران کو محدود کرکے قابو میں لانے میں ناکام رہے ہیں اور یورپ آبنائے ہرمز میں فوجی مداخلت کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے، یہ "سخت طاقت" میں ایران کی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔

3- تہران کی دانشمندانہ سفارت کاری:

بحران کے عروج پر یورپی رہنماؤں (جیسے میکرون اور فریڈرک مرز) کا تہران سے مسلسل رابطہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مغرب اچھی طرح سمجھ گیا ہے کہ ایران کے بغیر خطے میں کوئی بھی نظام مستحکم نہیں رہ سکتا۔ ایران نے میدانی طاقت اور سفارتی سرگرمیوں کے امتزاج سے ثابت کر کر دکھایا ہے کہ یورپ اب اپنی روایتی پالیسی جاری رکھتے ہوئے، بہ آسانی، "ایران دشمنی" اور "ٹرمپ کی اندھی پیروی" کے درمیان کام نہیں کر سکتا۔

4- "نارملائزیشن" منصوبے کی ناکامی اور علاقائی اثر و رسوخ:

خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی یورپی ممالک کی ادھوری مدد سے ناراضگی، خطے میں مغربی سیکورٹی امبریلا کی ناکامی کو عیاں کرتی ہے۔ یہ صورتحال خطے کے ممالک کو علاقائی سلامتی کے انتظامات کی طرف راغب، اور انہیں قبول کرنے، پر مجبور کر سکتی ہے۔

صہیونی ریاست یورپ کی جزوی آزادی اور مغربی محاذ میں خلیج سے شدید خوفزدہ ہے اور اس کا خیال ہے کہ "آبنائے ہرمز میں تسدیدی حکمت عملی کا تسلسل" اور "مغرب کے اندرونی تضادات" (یورپ کا ٹرمپ سے تصادم)، غیر علاقائی قوتوں کی شراکت کے بغیر، ایک نئی علاقائی ترتیب قائم ہونے کا سبب ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha