بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ حقیقت امریکہ میں سیاسی حلقوں کے درمیان ہونے والی بحثوں کا موضوع بن گئی ہے کہ ایران نے 1981 میں امریکی صدر جمی کارٹر کے بعد، امریکی صدارت کو ایک بار پھر زوال تک پہنچا دیا ہے؛ اس کی سیاسی شکست عیاں ہو چکی ہے، عوام جنگ سے ناراض ہیں،اس کی مقبولیت اپنے ریپبلکن حامیوں کے درمیان شدت سے گر چکی ہے اور کانگریس کے انتخابات میں ریپلکن جماعت کی شکست کا خطرہ شدت سے بڑھ گیا ہے۔

یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے
وسیعلم الَّذِينَ ظلموا أی منقلب ینقلبون
یہ اسی قسم کی ناراضگیوں کے صرف کچھ نمونے ہیں:
- ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر "حکیم جیفریز Hakeem Jeffries": ٹرمپ واضح طور پر نادان ترین صدر ہے جو اب تک، وائٹ ہاؤس تک پہنچ پایا ہے۔"۔
- سابق امریکی وزیر خارجہ "John Kerry": سب سے بڑی چیز جو ٹرمپ حاصل کر سکتا ہے وہ ایرانیوں کو اسی جوہری معاہدے (JCPOA) پر راضی کرے جو نے پہلے قبول کرلیا تھا اور ٹرمپ نے اسے اپنے پہلے صدارتی دور میں منسوخ کر دیا تھا؛ اور یہ صورت حال کی مضحکہ خیزی کو عیان کرتا ہے جس میں ہم الجھے ہوئے ہیں۔"
- ییل یونیورسٹی کے پروفیسر "ٹیموتھی اسنائیڈر Timothy Snyder": امریکی اس مقاوم پر نہیں ہے کہ ایران سے کہہ سکے کہ وہ کیا کرے۔ امریکیوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ اس جنگ میں شکست کھا رہے ہیں۔ ایران کے جتنے بھی شہری اہداف کو نشانہ بنایا جائے، اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔"
- سی این این نیٹ ورک: "گذشتہ پانچ ہفتوں نے ٹرمپ کے حقیقی چہرے کو ایک "ڈینگ مار" کے طور پر عیاں کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے چار مرتبہ ایران کے لئے ڈیڈلائنز مقرر کی ہیں تاکہ یا وہ شرطیں قبول کریں یا اس کے مبینہ 'غضب' کا سامنا کریں؛ اور پھر ان میں توسیع کی ہے؛ کیونکہ ایران نے اس کی شرطیں مسترد کی ہیں۔"
- ڈیلی بیسٹ: "امریکی کانگریس سے عوامی ناراضگی اپنے تاریخی ریکارڈ تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ ترین رائے شماری کے مطابق، کانگریس سے امریکیوں کی ناراضگی کی شرح 86٪ تک پہنچ گئی ہے جو گذشتہ 50 برسوں میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ