اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے تاحال اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں شرکت کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندری ناکہ بندی اور جہاز رانی میں مداخلت بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق آزاد سمندری تجارت پر حملے نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ عالمی سطح پر بحری آزادی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ایرانی جہازوں پر حملے "بحری قزاقی" اور "ریاستی دہشت گردی" کے زمرے میں آتے ہیں، اور ایسے اقدامات جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں، اور حالیہ اقدامات نے واشنگٹن کے ارادوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران شدید نقصان اٹھایا، لیکن عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت کے باعث مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران سفارتی عمل کو اہمیت دیتا ہے، تاہم کسی بھی مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ اسی وقت کیا جائے گا جب وہ نتیجہ خیز ہونے کی ضمانت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ