بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، لبنان میں جنگ بندی ٹرمپ کا تحفہ نہیں بلکہ ایران کے سفارتی میدان جنگ اور امریکہ پر اپنی شرطین ٹھونسنے کا ثمرہ ہے۔
ٹرمپ نے پھر بھی جھوٹ کا سہارا لے کر جنگ بندی کو اپنے نام کرنے کی کوشش کی لیکن زمینی حقائق اس کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتے۔ جنگ جوزف عون اور اسرائیل کے درمیان نہیں تھی کہ اب وہ آکر ٹرمپ کے کہنے پر جنگ بندی نافذ کریں گے۔
انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی اور ایران کی مسلح افواج کی دو ٹوک دھمکی نیز حزب اللہ لبنان کے تابڑ توڑ حملوں نے صہیونی ریاست کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال سفارتکاری نے بھی اس جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران نے 40 روزہ جنگ کے آغاز ہی سے "میدان جنگ - سفارتکاری" کے امتزاج سے ایک توازن قائم کیا جس کی وجہ سے جنگ کا دوام دشمن کے لئے مہنگا پڑ رہا ہے اور اسے فرسودہ کر رہا ہے۔ عملی میدان میں یہ توازن، محاذ مقاومت کے ڈیٹرنس کے استحکام کے ذریعے حاصل ہؤا۔
ایران نے اس میدانی برتری کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں دباؤ کا اوزار بنا دیا اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ کسی بھی قسم کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل ہونا چاہئے؛ ایسی شرط جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا اور اس شرط کو مخالف فریق پر ٹھونس دیا گیا۔ چنانچہ یہ جنگ بندی ٹرمپ اور واشنگٹن کی تخلیق کاری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اسے ایران نے دشمن پر مسلط کر دیا۔
تہران نے ثابت کرکے دکھایا کہ اس نے میدان جنگ میں اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مذاکرات کی میز پر بھی مستحکم کر دی ہے۔ چنانچہ لبنان میں جنگ بندی، توازن میں تبدیلی اور امریکہ پر ایرانی مرضی مسلط کرنے کا نیا نمونہ ہے۔ چنانچہ ٹرمپ کی طرف سے لبنانیوں کو جنگ بندی کا تحفہ دیئے جانے کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی اور حقائق کی تحریف اور اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کی ناکام کوشش ہے۔ گوکہ عالمی میڈیا حتیٰ کہ صہیونی ذرائع نے بھی ٹرمپ کے دعوے کے لائق توجہ نہیں سمجھا۔
مثال کے طور پر امریکی i24 چینل نے لکھا: ایران نے لبنان کی جنگ بندی کو امریکہ پر مسلط کر دیا۔
کچھ دوسرے صہیونی ذرائع نے لکھا: لبنان میں جنگ بندی، ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کی دوبارہ پسپائی ہے۔
سابق صہیونی وزیر خارجہ آویگدور لیبرمین Avigdor Lieberman نے ـ اس سوال کے جواب میں کہ "کیا اسرائیل اس جنگ میں فاتح ہؤآ؟"، ـ کہا: جو فاتح ہوتا ہے یہ سوال اس سے نہیں پوچھا جاتا۔ ایران کے ساتھ جنگ کا مقصد حکومت کو گرانا تھا اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ، اسے غیر مسلح کرنا تھا۔ یہ مقاصد حاصل نہيں ہوئے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ