15 اپریل 2026 - 14:38
حصۂ چہارم | 40 روزہ جنگ میں ٹرمپ کی تزویراتی شکست؛ اقتصادی ناکامیاں اور ساکھ کا خاتمہ

اسلامی جمہوریہ ایران نے، چالیس سالہ تزویراتی جنگ کے دوران، عوامی استقامت، فوجی تسدید اور زیرکانہ سفارتکاری کے سہارے، امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے امریکی پراجیکٹ پر 30 تزویراتی ناکامیاں مسلط کی ہیں اور علاقائی طاقت کے قواعد کو اپنے نام کر دیا۔/ اقتصادی ناکامیاں اور ساکھ کا خاتمہ؛ امریکہ کے اندر ایندھن کی قیمت کم کرنے میں ناکامی / خطے میں فوجی موجودگی میں ناکامی / ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام روکنے میں ناکامی / جنگ بندی ایران کے پیش کردہ فریم ورک کی بنیاد پر / سمندری رسوائی / مالی نقصانات روزانہ ایک ارب ڈالر / امریکہ کی بین الاقوامی رسوائی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔

یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:

حصۂ چہارم؛ اقتصادی ناکامیاں اور ساکھ کا خاتمہ

21۔ امریکہ کے اندر ایندھن کی قیمت کم کرنے میں ناکامی

ٹرمپ کے انتخابی نعروں کے برعکس، ایران پر جنگ مسلط کرکے، اس نے امریکہ کے اندر ایندھن کی قیمتوں میں اضآفے کے اسباب فراہم کئے ہیں اور امریکی شہریوں کو توانائی کی مہنگائی سے دوچار کر دیا ہے۔

22۔ خطے میں فوجی موجودگی میں ناکامی

امریکہ نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں سے کھربوں ڈالر بٹور کر ان ہی کے اخراجات پر ان ریاستوں میں بڑے اور مہنگے فوجی اڈے قائم کئے اور وعدہ دیا تھا کہ کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں یہ اڈے ان کی حفاظت کریں گے؛ لیکن جنگ کے دوران ایران کے جوابی حملے شروع ہوئے تو یہ اڈے نہ صرف ان ریاستوں کی حفاظت سے عاجز رہے بلکہ ان کے سرپر لدا ہؤا عظیم بوجھ بن گئے۔ اڈے تباہ ہوگئے اور امریکی فوجی بھاگ کے ان ممالک کے رہائشی علاقوں اور ہوٹلوں میں چھپ گئے، ایران نے ان کے خفیہ ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا، چنانچہ یہ ریاستیں اگر امریکہ کے ڈر سے، انہیں کچھ نہ بھی کہہ سکیں لیکن خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان اڈوں کا فائدہ کیا تھا جن کے لئے انہوں نے کھربوں ڈالر بھتہ امریکی حکومت کو ادا کیا تھا؟ چنانچہ ان اڈوں کا مستقبل بالکل مبہم ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بنیادی مسودے میں بھی مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی شق امریکیوں نے تسلیم کر لی ہے۔ اب ایران رہے گا اور عرب ریاستیں جنہوں نے خیانت کی ہے۔

23۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام روکنے میں ناکامی

دشمن نے ایران کی میزائل صلاحیت کے مکمل خاتمے کو بھی اپنے اعلان کردہ مقاصد میں شامل کیا تھا لیکن جنگ کے دوران نہ صرف اس صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ صلاحیت مزید نکھر گئی، نئے میزائل اور نئے دوہرے لانچرز بھی منظر عام پر آئے، میزائلوں کی رینچ میں بھی اضآفہ ہؤا اور کہا گیا کہ ایران کے کچھ میزائلوں نے 5000 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیگو کارسیا میں برطانوی-امریکی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی ڈرونز نے جنوبی یورپ میں بھی خاص صہیونی-امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا اور بحیرہ روم سے بحر ہند اور بحیرہ عرب تک کے علاقوں پر چھا گئے اور امریکی بحریہ کے جہازوں کو ایک ہزار کلومیٹر تک دور رکھا۔

24۔ جنگ بندی ایران کے پیش کردہ فریم ورک کی بنیاد پر

امریکہ اور اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ یہ جنگ 72 گھنٹوں میں ایران کی پسپائی پر منتج ہوگی لیکن پانچویں دن سے ٹرمپ سمجھ گیا کہ یہ ایک تر نوالہ نہیں ہے چنانچہ اسے اپنے دوست ممالک سے جنگ بندی کے لئے کوششیں کرنے پر مجبور کیا اور یہ سلسلہ پھیلتا گیا حتی کہ اس نے 39ویں دن دھمکی دی کہ گویا وہ ایران کی کئی ہزار سالہ تہذیب کا خاتمہ کرے گا، لیکن اسی اثناء میں اس کے دوست جنگ بندی کے لئے کوشاں تھے چنانچہ ایران نے بھی ان ممالک کے اصرار پر مذاکرات کے لئے ایک فریم ورک پیش کیا جس سے ٹرمپ نے فوری طور پر اتفاق کیا بہرحال اس جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے رعایتیں حاصل کیں اور رعایتیں نہیں دیں۔

25۔ سمندری رسوائی

امریکی بحری جہازوں کے 1000 کلومیٹر سے قریبتر نہ آ پانے، جیرالڈ فورڈ کیریئر کے ناکارہ ہوکر فرار کے ساتھ ساتھ امریکیوں نے اسلام آباد مذاکرات کے عین وقت پر اپنی رسوائیوں اور شکستوں کے ریکارڈ میں ایک خاص قسم کی بحری رسوائی کا اضافہ کیا۔ دو امریکی ڈسٹرائرز نے مواصلاتی سسٹمز بند کرکے آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کی، سینٹکام دہشت گردوں نے کہا کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے گذر گئے ہیں اور ٹرمپ نے دعوی کیا کہ "ہم نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا ہے، اور بارودی سرنگیں جمع کر رہے ہیں!"، لیکن حقیقت کا پتہ اس وقت چلا جب ایرانی بحریہ نے اعلان کیا کہ دو امریکی ڈسٹرائر فریب کے ذریعے آبنائے ہرمز کے قریب آئے تھے جنہیں خبردار کیا گیا اور ان پر کروز لاک کئے گئے چنانچہ انہیں بے آبرو ہوکر بھاگنا پڑا۔

26. مالی نقصانات روزانہ ایک ارب ڈالر

40 روزہ جنگ میں دشمن کو کم از روزانہ ایک ارب ڈالر کا براہ راست نقصان ہؤا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں کم از کم ایک ٹریلین (1000 ارب) ڈالر اخراجات امریکی ٹیکلس دہندگان پر لاد لئے ہیں۔ علاوہ ازیں دو مرتبہ خبر آئی کہ امریکی اسٹاک ایکسچینچ کو ایک ٹریلین (1000 ارب) ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ایندھن، ہتھیاروں، گولہ بارود، طیاروں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر آنے والا خرچہ اس کے علاوہ ہے۔ کویت، قطر، بحرین، اردن اور سعودی عرب میں کھربوں ڈالر کے امریکی تزویراتی اثاثے بھی ـ ایرانی حملوں میں نیست و نابود ہوگئے ـ بھی اس کے علاوہ ہیں۔

عالمی معیشت کو تقریبا ڈھائی ہزار ارب ڈالر ـ یعنی جی 7 ممالک کی تین معیشتوں کے برابر ـ نقصان پہنچا اور عالمی معیشت 7 فیصد چھوٹی ہو گئی۔ دنیا کے مختلف ممالک کے اسٹاک ایکسچینجز کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔

27۔ امریکہ کی بین الاقوامی رسوائی

یہ ناکامیاں تاریخ میں "زیادہ سے زیادہ مگر کمزورترین دباؤ" کے عنوان سے تاریخ میں ثبت ہوئیں۔ عالمی ذرائع کی سرخی یہ تھی: "امریکہ، ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز کا ہارا ہؤا فریق"۔ کم ہی کوئی بڑی طاقت کو ہاری ہوئی طاقت کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha