سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اعلان کیا:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
وعدہ صادق-4 کی 97ویں لہر کا آغاز مبارک کوڈ نیم "یا قاسم بن الحسن(ع)" سے ہؤا اور مقبوضہ سرزمین نیز خطے میں امریکی-صہیونی کے متعدد اہم فوجی ٹھکانوں اور خلیج فارس اور اس کی ساحلی عرب ریاستوں میں اثاثوں اور مفادات کو شدید اور نتیجہ خيز کاروائیوں کا نشانہ بنایا۔
اس کاروائی کو بجلی پیدا کرنے والے محنت کشوں اور بجلی کے قومی اداروں کے نام کیا گیا۔
اس کاروائی کے دوران کویت میں دہشت گرد امریکی افسروں اور سپاہیوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ یہ افسران اور فوجی کویت کے 'محمد الاحمد' بحری اڈے کے قریب ایک غیر متعلقہ مقام پر جمع ہوئے تھے۔ اس مقام کو بیلسٹک اور لا تعداد تباہ کن ڈرون طیاروں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ موقع پر بڑی تعداد میں ایمبولینسوں کی آمد و رفت سے ظاہر ہؤا کہ اس حملے میں لاتعداد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی وئے ہیں۔
اسی اثناء میں، امارات سے ملنے والی میدانی معلومات کے مطابق، اسی طرح کے ایک خفیہ ٹھکانے کو اس ریاست میں بھی نشانہ بنایا گیا جس میں 25 افراد حتمی طور پر ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔
اس کاروائی میں امارات کے جبل علی کینال میں ایک صہیونی جہاز کنگ ڈاؤ اسٹار (King Dao Star) کو 'قدیر' بحری کروز میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا۔ جہاز جل رہا ہے۔
گذشتہ دن کے دوران آبنائے ہرمز کی ذہین نگرانی جاری رہی اور کئی بحری جہازوں کو ـ اجازت نامہ نہ ہونے کی وجہ سے ـ خلیج فارس میں داخلے یا اس سے نکلنے سے روک لیا گیا اور انہیں آبنائے ہرمز کے دائیں اور بائیں کے علاقوں میں لے جایا گیا۔
سپاہ پاسداران کی بحریہ خلیج فارس میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ جھوٹی خبروں پر کان نہ دھریں اور اپنی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی چینل 16 پر سپاہ پاسداران کی بحریہ کے اسٹیشنوں سے رابطہ کریں۔
اس کاروائی کے تسلسل میں، صہیونی فوج کی شرانگیزی کے جواب میں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورس نے مقبوضہ فلسطین میں بئرالسبع کے علاقے میں ایک انڈسٹریل زون کو بھاری میزائلوں کا نشانہ بنایا۔
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے آج صبح امریکی-صہیونی دشمنوں کے جرائم کا شدید جواب دیتے ہوئے، مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں، دیمونا کے قریب، پٹروکیمیکل صنعتوں اور تیل کی مصنوعات کے ذخائر، اور کویت کے بوبیان جزیرے میں امریکہ دہشت گرد فوج کے اڈے میں ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان کے گوداموں، سیٹلائٹ مواصلات کی یونٹوں اور امریکی فوج کے اسٹاف ہیڈکوارٹر کو بھاری ڈرونز کا نشانہ بنایا۔
اس اڈے میں نشانہ بننے والے گوداموں کا تعلق ہیمارس میزائل سسٹم کے گولہ بارود نیز دہشت گرد امریکی فوج کے مواصلات اور نگرانی کی تنصیبات سے تھا۔
کویت میں عریفجان امریکی اڈے کو شدید نقصانات پہنچنے کے بعد، امریکی دہشت گردوں نے جزیرہ بوبیان میں ایک کیمپ قائم کیا اور جنگ کے انتظآم کے لئے اپنی سیٹلائٹ مواصلاتی یونٹوں نیز eavesdrop یونٹوں وہیں منتقل کیا تاکہ ایران کے خلاف اپنی شرانگیزیوں کو جاری رکھ سکیں، تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور سپاہ نے باری باری انہیں بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
فوج اور سپاہ پاسداران ملکی فضاؤں کے نگہبانوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں دشمن کے دو MQ9 ڈرونز، ایک ہرمس ڈرون، ایک لوکاس ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل کو مار گرایا؛ اور یوں جنگ کے آغاز سے اب تک تباہ ہونے والے ڈرونز کی تعداد 164 تک پہنچ گئی ہے۔
ہم نے ابتداء ہی اعلان کیا تھا کہ اگر ہمارے سول اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں دشمن کے مفادات پر کئی گنا زیادہ بڑے جوابی اقدامات کا نشانہ بنایا جائے گا۔
"وَمَا النَّصْرُ إلّا مِنْ عِنْدِ اللهِ العَزِیزُ الحَکِیمِ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ