بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشہور امریکی ٹی وی میزبان اور صحافی ٹکر کارلس نے نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا:
جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے وہ در حقیقت امریکی سلطنت کا زوال ہے جیسا کہ ہم اسے سمجھتے ہیں۔
اور یہ غم انگیز ہے، افسوس کہ یہ سلطنت مررہی ہے۔
ٹکر کارلس نے البتہ دعوی کیا کہ: "لیکن یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا اختتام نہیں ہے، اقوام پر ہمارے اثر و رسوخ کا خاتمہ نہیں ہے، وہ اثر و رسوخ جو امید ہے کہ مثبت ہو۔ البتہ ہماری معیشت کا اختتام بھی نہیں ہے۔"
انھوں نےکہا: [ایران کےساتھ جنگ اور ہماری سلطنت کا زوال] ہماری معیشت میں انتہائی سخت دور کا آغاز ہوگا۔
کارلس نے کہا: جو کچھ ہم گذشتہ 80 برسوں کے دوران انجام دیتے آئے تھے، وہ مزید کارآمد نہیں ہے۔
ٹکر کارلسن نے کہا: یہ رویہ طویل مدت میں امریکہ کے مفاد میں نہیں تھا۔ آپ کے پوتوں نواسوں کو یہ ضمانت میسر نہیں ہونگے کہ ان کی زندگی آپ سے بہتر ہوگی!
انھوں نے کہا: بہرحال، یہ ایک کامیاب تجربہ نہیں تھا اور اب یہ تجربہ اختتام کو پہنچ رہا ہے کیونکہ آج ہم اس مرحلے میں پہنچے ہیں کہ ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ہماری طاقت محدود ہے۔
انھوں نے کہاي ہم آبنائے ہرمز کو نہیں کھول سکتے، امریکی صدر نے یہی کہا کہ "کوئی اور آکر اس کام کو انجام دے، ہمارا کام وہاں ختم ہے"،
ان کا کہنا تھا: [ہماری سلطنت ختم ہو رہی ہے] تو کوئی بات نہیں، ہمیشہ سے طے یہی تھا کہ یہ اختتام [کا مرحلہ] آن پہنچے، ہمیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری [حملوں] کے مبادلے کے بغیر، ہم اس مرحلے سے خارج ہوجائیں۔
ٹکر کارلس نے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس وقت، [ہماری سلطنت کا] یہ اختتام وقوع پذیر ہو رہا ہے اور اس اختتام کے بعد بہت زیادہ دکھوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹکر کارلسن نے مستقبل میں امریکہ پر عقل اور ہوش کی حکمرانی کے حوالے سے امید ظاہر کی اور کہا: بہرحال اسی حال میں بہت زیادہ خوشخبریاں بھی ہیں۔ مثلا یہ خوشخبری کہ امریکہ اپنے ہی مفاد میں [نہ کہ دوسروں کے مفاد میں] عمل کرے، یہ معقول ہو سکتا ہے، اور اس کے بعد اس ملک کا انتظام ان جنونی پاگلوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے جو غرور و تکبر سے دوچار ہوئے ہیں۔ یا [یہ ملک] حد سے زیادہ خطرہ مول نہ لے اور بہت زیادہ لوگوں کے قتل کا باعث نہ بنے۔
انھوں نے ضمنی طور پر اپنے حکام کو طعن آمیز انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا: تمہیں ایسے ممالک پر قبضہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جہاں تم نے قدم ہی نہیں رکھا ہے اور نقشے کے اوپر بھی اسے نہیں ڈھونڈ سکتے ہو۔
انھوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کی اخلاقی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں ـ اس سے قطع نظر کہ آپ اسے اخلاقی لحاظ سے اس کی تائید کرتے یا نہيں ـ کارآمد اور مفید نہيں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ