اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، دہلی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی میں شہید رہبرِ انقلاب کی ادبی شخصیت کا جائزہ” کے عنوان سے ایک علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے شہید رہبر انقلاب کی ادبی خدمات اور فارسی ادب پر ان کی گہری بصیرت پر تفصیلی گفتگو کی۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے انجمن بنیاد سعدی کے جنرل سیکریٹری اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر جعفری نے کہا کہ رہبر انقلاب کی ادبی شخصیت کا کوئی ثانی نہیں ہے اور وہ فارسی ادب پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔
انہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بار شہید رہبر انقلاب سے ملاقات کا موقع ملا، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ادبیات پر مکمل عبور رکھتے تھے، شعرا کو نہایت باریکی سے سنتے ہیں اور فی البدیہہ تنقید میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے مطابق رہبر انقلاب ایک صاحبِ طرز اور مستقل ادبی مکتب فکر کی حیثیت رکھتے تھے۔
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ شہید رہبر انقلاب جب ہندوستانی شعرا کے بارے میں گفتگو کرتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ رہبر انقلاب ہندوستانی شعرا کے ہم عصر ہیں۔
پروفیسر جعفری نے کہا کہ رہبر انقلاب کی فکری و ادبی تربیت کا اثر ایرانی معاشرے پر بھی نظر آتا ہے، جہاں عوام مزاحمت اور استقامت کے جذبے کے ساتھ میدان میں نظر آتے ہیں۔
انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان ایران آئے تو رہبر انقلاب نے گھانا کے متعلق اس قدر تفصیل سے گفتگو کی کہ مہمان نے اعتراف کیا کہ وہ ان کے ملک کے بارے ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ نشست دہلی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی، انجمنِ شاعرانِ پارسی گو معاصر ہند اور انجمن بنیاد فارسی ہند کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے رہبرِ انقلاب کی ادبی بصیرت اور فارسی شاعری سے ان کی گہری شناسائی کو موضوعِ بحث بنایا۔
آپ کا تبصرہ