25 مارچ 2026 - 23:59
امریکی مفادات کہیں بھی ہوں، ہمارے نشانے پر ہونگے، سید عباس عراقچی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ،  سید عباس عراقچی نے قومی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جہاں بھی امریکی مفادات نظر آئیں گے، ہم انہيں نشانہ بنائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ،  سید عباس عراقچی نے قومی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہمارا مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، نہ کوئی مذاکرہ اس سے پہلے انجام پایا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ،  سید عباس عراقچی نے کہا:

- جنگ رمضان میں ہماری قوم اور مسلح افواج کے کارنامے، ہماری کئی ہزار سالہ تاریخ میں عدیم المثال ہیں۔

- فطری سی بات ہے کہ ہم بیٹھ کر تماشا نہیں دیکھیں گے، اور جہاں بھی امریکی مفادات کو ڈھونڈ لیں گے ان پر حملہ کریں گے اور جو بھی امریکی  جارحیت میں شریک ہوجائے، وہ ہمارے خیال میں جائز نشانہ سمجھا جاتا ہے۔

- فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت و مقاومت اور ملکی دفاع پر مبنی ہے اور ہمارا مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

- اب تک مذاکرات کا کوئی دور نہیں ہؤا، امریکہ کے ساتھکوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ البتہ امریکیوں نے مختلف ثالثوں کے ذریعے کچھ پیغامات بھیجے ہیں۔ لیکن ہمارے دوست ممالک کے ذریعے امریکی پیغامات اور ہمارے انتباہات کے تبادلے کا نام مذاکرات نہیں ہے۔

- پیغامات کے تبادلے کے دوران بھی ہم نے اپنا اصولی موقف منتقل کیا اوربعض مواقع پر دشمن کو خبردار بھی کیا۔

- ہم نے بنیادی ڈھانچوں پر حملے کے بارے میں سختی سے خبردار کیا یہاں تک کہ وہ اپنی دی ہوئی 48 گھنٹوں کی مہلت سے پسپا ہونے پر مجبور ہوئے۔

- اصولی طور پر، ٹرمپ کی طرف سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ درحقیقت شکست کا اعتراف ہے۔

- اس جنگ میں ہمارا موقف اتنا مستحکم ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کر سکا۔

- یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی اور ہم اس کا خاتمہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ نہ دہرائی جائے۔ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے کیونکہ جنگ بندی وہی باطل سرکل ہے جو پھر بھی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ہم اپنی شرائط کی بنیاد پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اس طرح سے اسے دوبارہ نہ دہرایا جائے اور ہمارے دشمن ایسا سابق حاصل کریں کہ وہ دوبارہ ایران پر حملے کا سوچ ہی نہ سکے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایرانی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کے بدلے ہرجانہ دیا جائے۔

- جنگ کے ان 26 دنوں میں ہماری مسلح افواج نے جانفشانی اور پامردی کا ثبوت دیا اور ان ميں سے ہر ایک کے ہاتھ پر بوسہ دینا چاہئے۔ انھوں نے گراں قدر شہداء کی قربانی دی۔ جو لوگ ہر شب میدان میں حاضر ہیں ان  کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہیں۔

- سفارتکاروں نے اپنے حصے کا کام بخوبی انجام دیا کیونکہ ہم اپنی قوم کی زبان ہیں۔ 

- ہم نے اس جنگ میں ثابت کر دیا کہ کوئی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور ہم نے دوسروں کی مدد کے بغیر ہی اپنے لئے ایک سیکورٹی شیلڈ فراہم کی ہے جسے دنیا اچھی طرح سمجھ گئی کہ اگر ہماری طرف طرف میلی آنکھ سے دیکھے اور ہمارے مفادات سے کھیلنا چاہے تو اس کے لئے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha