17 مارچ 2026 - 01:06
معرکۂ وعدہ صادق-4؛ سوموار 16 مارچ کی خبریں

دشمن نے غرور و نخوت کی رو سے جارحیت کی، اسے شکست کی کوئی توقع نہ تھی، اس کے انتظامات اس کے اپنے خیال میں، مکمل تھے، لیکن آج 16 دن گذرنے کے بعد، دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران کے حملے جاری ہیں، ایرانی عوام انقلاب کی حفاظت و حمایت کے لئے میدان میں ہیں اور مقاومت اسلامی بھی میدان میں آئی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا: امریکی - صہیونی جارحیت کے مقابلے میں ایران کی دفاعی خبریں:

 اہم صہیونی مقامات اور شخصیات پر ایران کے درست حملے

اسپرینٹر پریس نے لکھا: "ایران نے اسرائیل کے راہنماؤں، وزراء، کمانڈروں، پائلٹوں اور انٹیلی جنس افسران کے معینہ پتوں پر شروع کر دیئے ہیں؛ واضح اہداف، متعینہ مکانات اور رہائشگاہیں، درست حملے۔۔۔

در حقیقت اسرائیل کے اندر افراد کا ایک حقیقی شکار شروع ہوچکا ہے۔ تل ابیب میں شدید گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ جانے بچانے کے لئے کوشاں ہیں۔ کچھ چھپ گئے ہیں۔

بظاہر، اسرائیل کو توقع نہ تھی کہ ایران کے پاس ایسی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے نتائج کو نظرانداز کرکے بڑے اطمینان سے جنگ کا آغاز کیا؛ لیکن یہ اب ان کے لئے ایک جھٹکا بن گئی ہے۔

ایک سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کس نے ان صلاحیتوں کے حصول میں ایران کی مدد کی ہے، کون ہے جو ایران کو نیویگیشن کی صلاحیت اور ڈیجیٹل انفارمیشن فراہم کرتا ہے؟"

 

امریکی صدر کو فراہم کردہ غلط معلومات خونریزی کا سبب بنیں، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے لکھا: "سنا ہے کہ ایک امریکی فوجی، جس کے گھر والے ایران کے خلاف اس ناخواستہ جنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں، اس وقت زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے عوامی چندے کا محتاج ہے۔‌

ایسے حال میں ـ کہ ایک منصفانہ اور متوازن سمجھوتہ قابل حصول تھا، ـ جن لوگوں نے امریکی صدر کو غلط مشورے دیئے ہیں، وہی آج کی خونریزی کے ذمہ دار ہیں۔

یہ وہ جنگ ہے جو ایرانی عوام کی طرح، امریکی عوام پر بھی مسلط کی گئی ہے۔"

ڈیموکریٹس کی طرف سے ٹرمپ کے جنگی اختیارات کم کرنے کا نیا بل

امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ اقلیت کے سربراہ "جیفریز" نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کے بعض نمائندوں نے ـ جنہوں نے اس سے پہلے، کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ شروع کرنے یا اس کا دائرہ پھیلانے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے بل کی مخالفت کی تھی ـ ہو سکتا ہے کہ نئے بل کی حمایت کریں۔

جیفریز کا کہنا تھا کہ کچھ ڈیموکریٹ نمائندوں نے اپنا موقف بدل دیا ہے اور ممکن ہے کہ اگلی رائے شماری میں اس بل کی حمایت کریں۔

طے یہ ہے کہ اس ہفتے، ایک بار پھر، کانگریس کی منظوری کے بغیر، امریکی صدر کے جنگ پھیلانے کے اختیار محدود کرنے کا بل کانگریس میں پیش کیا جائے۔

ایران کے ہاتھوں امریکیوں کی تذلیل

مڈل ایسٹ مانیٹر: یہ جو ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے لیکن خود اسی آب راہ سے چین کو تیل برآمد کر رہا ہے، "امریکہ کی تذلیل" ہے۔

ایرانی آئل ٹینکرز کی کامیابی سے چین کی طرف روانگی سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف اپنی پابندیاں مکمل طور پر نافذ کرنے یا ایران کی برآمدات کے راستے بند کرنے سے عاجز ہے۔

ابھی نئے میزائل میدان میں نہیں لائے گئے، سپاہ پاسداران

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا: زیادہ تر میزائل ـ جو ہم اس وقت بروئے کار لا رہے ہیں ـ ایک عشرہ قبل کی پیداوار ہیں / بہت سارے نئے میزائل 12 روزہ جنگ کے بعد تیار کئے گئے ہیں، ابھی تک استعمال میں نہیں لائے گئے ہیں / ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت میں ـ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ـ اضافہ ہؤا ہے۔

 برینٹ آئل کی فی بیرل قیمت 106 ڈالر سے گذر گئی۔

کم از کم چھ امریکی عراق میں ایک اڈے پر حملے میں، ہلاک ہوگئے

عراقی میڈیا "نایا" نے رپورٹ دی کہ آج رات عراقی مقاومت نے بغداد میں وکٹری (یا وکٹوریا) کے امریکی اڈے پر حملہ کرکے 10 امریکیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک شدگان میں کتنے امریکی اور کتنی یورپی ہیں۔

اسی اثناء میں، عراقی مقاومت کے اولیاء الدم بریگیڈیز (سرایا اولیاء الدم) نے اعلان کیا: "ہمارے بہادر مجاہدین نے، امام شہید خامنہ ای نیز کچھ دلیر عراقی نوجوانوں کی شہادت کے انتقام کے حوالے سے اپنے شروع فریضے کی رو سے، "قارع" میزائل فائر کرکے بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 6 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔

ہفتے کے دن آبنائے ہرمز سے گذرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد، پہلی بار، "صفر '0'" ہو گئی۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ایران اور حزب اللہ کے بیک وقت حملے

سپاہ پاسداران کی ایرو اسپیس فورس: صہیونی ریاست کی فضائی کاروائیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو سوپر ہیوی میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کے تین حملے

لبنانی مقاومت نے اعلان کیا کہ تین علاقوں میں اسرائیلی فوج کے اجتماع کے مراکز کو نشانہ بنایا:

- صہیونی آبادکاروں کے قصبے کفر یووال کے شمال میں واقع پہاڑیوں پر میزائل حملہ؛

- جدیدۃ میس جبل میں صہیونی فوجی مشینری کے اڈے پر توپخانے کا حملہ؛

- جبل الباط میں کے علاقے میں عیترون کے نوتعمیر فوجی ہیڈکوارٹر پر توپخانے کا حملہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha