7 مارچ 2026 - 06:11
اب تک کی امریکی - صہیونی شکستوں کی تعداد: 20 + ایک دلکش ویڈیو

دشمن بڑے دعوے کرکے میدان میں آیا لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے فارمولے یکے بعد دیگرے خاک میں مل رہے ہیں۔ حتمی فتح کے وعدے اور دعوے کے باوجود، آج ان کے تھنک ٹینکس میں کوئی راؤنڈ اباؤٹ تلاش کرنے پر بحث ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || 

1۔ سوچ رہے تھے کہ رہبر انقلاب کی شہادت کے ساتھ یہ خیمہ گرے گا لیکن دیکھ رہے ہیں کہ قوم کھڑی ہو گئی اور ڈھانچہ اتنا قوی ہے کہ یہ خیمہ کبھی بھی گرنے والا نہیں ہے۔

2۔ سوچ رہے تھے کہ جنگ 48 گھنٹوں میں ختم ہوگی لیکن ایران کھڑا رہا ہے اور پہلے 48 گھنٹوں میں سمجھ گئے کہ وہ ایسے میدان میں اترے ہیں جس کا اختتام ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

3۔ کمانڈروں کو شہید کرکے ایران کے دفاعی ستونوں کو سست کرنا چاہتے تھے لیکن کمانڈ ان کی توقع کے برعکس، فوری طور پر بحال ہوئی اور بھاری جوابی کاروائی جاری رہی۔

4۔ سوچ رہے تھے کہ جنگ کے موقع پر سڑکیں بھڑک اٹھیں گی لیکن عوام سڑکوں پر آک دانشمندی کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور یہ شیطانی منظرنامہ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔

5۔ انہوں نے اپنے مفروضے کی بنیاد پر ایرانی قوم کے دو "ورچوئل" دھڑے بنا دیئے، ایک کی حوصلہ افزائی کی اور دوسرے کو ڈرانا شروع کیا ہے لیکن ورچوئل دنیا حقیقی دنیا نہیں ہے اور دشمن کے اس اقدام کا نتیجہ بھی برعکس نکلا اور عوام میں دفاع وطن کا جذبہ کئی گنا قوی تر ہو گیا۔

6۔ ملک کے کچھ حصوں کو توڑنا چاہتے تھے لیکن فوج اور سیکورٹی انداروں کے بروقت اقدامات نے اس منظرنامے کو بھی دفن کر دیا۔

7۔ سمجھ رہے تھے کہ محاذ مزاحمت (محور مقاومت) تھک ہار کر کمزور پڑ گیا لیکن عراقی مقاومت، حزب اللہ لبنان اور یمنی مقاومت نے میدان میں آکر جارحوں کے خلاف جوابی کاروائیوں کا آغاز کیا، جارح بھی اور ان کے چیلے بھی، حیران رہ گئے۔

8۔ سمجھ رہے تھے کہ سیکورٹی فورس اور پولیس کے مراکز پر حملے ہونگے تو ملکی امن و امان غارت ہو جائے گا، لیکن حفظ ما تقدم کے تحت یہ مراکز خالی تھے، اور انہوں نے کچھ دیواروں کو گرا دیا اور عوام کی سلامتی کو یقینی رکھا گیا۔

9۔ ابلاغیاتی جنگ کے ذریع "فتح کا جھوٹا بیانیہ" بنانا چاہتے تھے لیکن میدان کے حقائق اس قدر روشن تھے کہ ان کے دعوے باطل ہوئے اور بیانیہ نہ بن سکا۔

10۔ گمان کر رہے تھے کہ ایران کی میزائل صلاحیت محدود ہے لیکن میدان میں آکر جدید ہتھیاروں اور جدید روشوں سے دوچار ہوئے اور جسم و جان پر تالے پڑ گئے۔

11۔ سمجھتے تھے کہ ایران کے میزائل ذخائر بہت جلد ختم ہونگے لیکن جواب جاری رہا اور معلوم ہؤا کہ ایران ایک طویل جنگ کا بندوبست کرکے بیٹھا تھا۔

12۔ سمجھتے تھے کہ جنگ کو صرف حکومت کے خلاف جنگ کے طور پر جتا دے لیکن ہسپتالوں اور لوگوں کے گھروں پر بھی رحم نہ کیا اور پہلے مرحلے میں نرسری ای کے 165 بچوں کو شہید کر دیا اور یہ فریب بھی برباد ہو گیا۔

13۔ انہیں معاشی شکست و ریخت اور خدمات میں خلل پڑنے کی امید تھی؛ لکن بازار قائم رہا، سپلائی اور رسد اور خدمات کا سلسلہ قائم رہا۔

14۔ اندرونی سیاسی دراڑوں کے عمیق تر ہونے کی توقع رکھتے تھے لیکن تمام دھارے اور دھڑے بیرونی جارحیت کے مقابلے میں دوش بدوش کھڑے ہو گئے۔

15۔ سمجھ رہے تھے ایران دنیا میں تنہا ہو جائے گا؛ لیکن ایران کی آواز تمام فورموں میں سنی گئی۔

16۔ تصور کرتے تھے کہ ایران کے خلاف ایک اتحاد تشکیل پائے گا؛ لیکن اس حوالے سے بھی دشمن کو ناکامی ہوئی یہاں تک کہ ٹرمپ کو اندرونی سطح پر بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

17۔ توقع کر رہے تھے کہ خطے کے ممالک ان کے ساتھ کھڑے ہونگے، لیکن وہ جنگ کے پھیلاؤ پر آمادہ نہ ہوئے۔

18۔ تخریبکاری اور سائبر حملوں کے ذریعے ملکی انتظام میں خلل ڈالنے کے خواہاں تھے، لیکن ڈھانچے بہت قوی تھے اور یہ سازش بھی ناکام ہوئی۔

19۔ خودسرانہ اور یک طرفہ جنگ شروع کرکے اس کے بین الاقوامی اقتصادی اثرات کو ناچیز کرکے دکھانا چاہتے تھے، لیکن عالمی منڈیاں تابع نہ ہوئیں اور حقائق پوشیدہ رکھنے کے قابل نہ تھے۔

20۔ ان کا تصور تھا کہ ایران رہبر معظم کی شہادت کے بعد حیرت زدگی سے دوچار ہوگا؛ لیکن بر وقت فیصلوں اور مجلس خبرگان جیسے ڈھانچوں کے ہوتے ہوئے معلوم ہؤا کہ اس ملک کا ولائی نظام ہر قسم کے بحران سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محسن مہدیان

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha