26 جنوری 2026 - 16:09
عزیز نوجوانو! اپنے اتحاد کا تحفظ کرو / ٹرمپ بھی فرعون کی طرح سرنگون ہوجائے گا، امام خامنہ ای

رہبر انقلاب نے حالیہ بلوؤں کے بارے میں فرمایا: "کچھ لوگوں کا کام صرف تخریبکاری ہے، جیسا کہ کل رات تہران اور بعض دوسرے علاقوں میں مٹھی بھر تخریبکاروں نے ملک کی کچھ عمارتوں کو تباہ کر دیا، اس لئے کہ امریکی صدر کو خوش کریں / "یہ شخص جو نخوت اور غرور کے ساتھ پوری دنیا کے بارے میں بولتا ہے اور سب کے بارے میں رائے دیتا ہو، جان لے کہ دنیا کے آمرین، مستبدّین اور مستکبرین ـ جیسے فرعون، نمرود، رضاخان اور محمد رضا پہلوی، ـ عام طور پر ایسے موقع پر سرنگون ہوگئے جب وہ غرور کی انتہاؤں پر تھے، اور یہ شخص بھی سرنگون ہوجائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے آج (بروز جمعہ 9 جنوری 2026ع‍) کو قمی عوام کے مختلف طبقوں کے ہزاروں ملاقاتیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: عزیز نوجوانو! اپنے دین کا، اپی سیاسی فکر کا، اپنی موجودگی اور کردار کا، اپنے ملک کی ترقی کے میدان میں اپنی تیاریوں کا تحفظ کریں، اپنے اتحاد کی حفاظت کریں، ایک متحد قوم ہمیشہ دشمن پر غلبہ پاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، شہر قم المقدسہ کے ہزاروں شہریوں نے آج صبح (9 جنوری 1978) کے قمی عوام کی انقلاب اٹھان کی سالگرہ کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) سے ملاقات کی۔

رہبر انقلاب نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بدعنوان پہلوی حکومت اور اس کے اصل حامی امریکہ کے غلط اندازوں کو ملت ایران کے مقابلے میں ان شکست کا سبب گردانا اور فرمایا: "آج بھی ملت ایران، اسلامی جمہوری نظام کی برکت سے، نرم اور روحانی وسائل اور سخت اوزاروں کے لحاظ سے اس دن کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، متکبر امریکہ جو غلط اندازوں اور بے بنیاد ڈھانچوں سے دوچار ہے، شکست کھا جائے گا۔ اور اسلامی جمہوریہ نظام ـ جو لاکھوں شریف اور باعزت شہیدوں کے خون سے معرض وجود میں آیا ہے ـ تخریکار بے فکر اور بلوائی عناصر کے مقابلے میں پسپا نہیں ہوگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ملک میں ہونے والے بعض تخریبکارانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ایسے افراد ہیں جن کا کام تخریب کاری ہے اس لئے کہ امریکہ کا صدر خوش ہوجائے۔"

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: "کچھ لوگوں کا کام صرف تخریبکاری ہے، جیسا کہ کل رات تہران اور بعض دوسرے علاقوں میں مٹھی بھر تخریبکاروں نے ملک کی کچھ عمارتوں کو تباہ کر دیا، اس لئے کہ امریکی صدر کو خوش کریں"۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا: "وہ بھی خوش ہو رہا ہے، لیکن اگر وہ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو جاکر اپنے ملک میں نظم و نسق برقرار کرے جو کہ مختلف قسم کے مسائل میں الجھا ہؤا ہے؛ اس شخص کا ہاتھ حالیہ 12 روزہ جنگ میں ایک ہزار سے زیادہ ایرانی عوام کے خون سے رنگا ہؤا ہے اور اس نے خود اعتراف کیا کہ "میں نے حملے کا حکم دیا، اور اس جنگ کی کمانڈ میں نے کی"، پھر یہی شخص کہتا ہے کہ "میں ایرانی عوام کا حامی ہوں"، اور بے توجہ، غافل اور بے فکر افراد اس کی ان باتوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے کہنے اور اس کی مرضی پر کوڑے دانوں کو آگ لگاتے ہیں اور اس طرح کے کام کرتے ہیں۔

آپ نے فرمایا: "اسلامی جمہوریہ کئی لاکھ شریف انسانوں کے خون کی برکت سے معرض وجود میں آئی ہے اور تخریبکاروں کے مقابلے میں پسپا نہيں ہوگی۔"

آپ نے مزید فرمایا: "اسلامی جمہوریہ اجنبیوں کی گماشتگی کو برداشت نہیں کرتی اور ایرانی قوم اجنببیوں کے گماشتے کو ـ خواہ وہ جو کوئی بھی ہو ـ مسترد کرتے ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی صدر کے بارے میں فرمایا: "یہ شخص جو نخوت اور غرور کے ساتھ پوری دنیا کے بارے میں بولتا ہے اور سب کے بارے میں رائے دیتا ہو، جان لے کہ دنیا کے آمرین، مستبدّین اور مستکبرین ـ جیسے فرعون، نمرود، رضاخان اور محمد رضا پہلوی، ـ عام طور پر ایسے موقع پر سرنگون ہوگئے جب وہ غرور کی انتہاؤں پر تھے، اور یہ شخص بھی سرنگون ہوجائے گا۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے خطاب کے آغاز پر 9 جنوری سنہ 1978ع‍ کو قمی عوام کے تاریخی قیام کو ایران کی قابل فخر تاریخ کی ضخیم کتاب کا جدا نہ ہونے والا ورق قرار دیا اور فرمایا: "اس اہم اور فیصلہ کن واقعے نے ـ اسلامی تحریک کے مُجتَمَع معارف و تعلیمات کو جو امام حکیم [امام خمینی (رضوان اللہ علیہ)] کے بیانات کی برکت سے، اور مفکرین کی کوششوں کے بدولت، تحریک اسلامی کے آغآز یعنی 5 جون 1963 سے لوگوں کے ذہن و روح میں جمع ہوئی تھیں، ایک سماجی اٹھان میں تبدیل کر دیا اور ایک آسمانی بجلی کی طرح، ملت کے غیظ و غضب کو استبدادی اور امریکی پہلوی بادشاہت کے خلاف بھڑکا دیا اور متواتر قیاموں اور اٹھانوں کو تشکیل دے کر، بدعنوان حکومت کو سقوط اور نابودی سے دوچار کر دیا۔

حضرت آیت‌الله خامنه‌ای درابتدای سخنانشان، قیام ۱۹دی مردم قم را برگی جدانشدنی از کتاب قطور تاریخ پرافتخار ایران خواندند و گفتند: آن حادثه مهم و تعیین‌کننده، معارف متراکم نهضت اسلامی را که به برکت بیانات امام حکیم و تلاش‌های اندیشه‌ورزان از آغاز نهضت اسلامی یعنی از ۱۵خرداد ۴۲ در ذهن و روح مردم انباشته شده بود، به یک تحرک اجتماعی تبدیل کرد و همچون یک صاعقه آسمانی، خشم و نفرت ملت از رژیم دیکتاتور و آمریکایی پهلوی را مشتعل ساخت و با شکل‌دهی قیام‌های پی‌درپی، رژیم فاسد را به سقوط و نابودی کشاند.

آپ نے ظالم پہلوی حکومت کو معاصر دور کی بدترن حکومت قرار دیا اور فرمایا: "جب وہ بدعنوان اور کمزور حکومت نابود ہو گئی، جیسا کہ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے وعدہ دیا تھا ایک عوامی حکومت بر سر اقتدار آگئی  اور "امریکہ اور صہیونیت اور عالم سیاست کے دوسرے کمینوں اور غنڈوں" سے وابستہ حکومت کے بجائے ایک آزاد اور خودمختار حکومت پیارے ایران میں، قائم ہوئی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے پہلوی حکومت اور امریکہ کے غلط حساب کتاب اور غلط تخمینوں کو قم کے فیصلہ کن قیام کا سبب قرار دیا اور فرمایا: "قم کے شریف اور انقلاب عوام کے قیام سے 10 دن پہلے، امریکی صدر نے تہران میں، پہلوی ایران کو 'استحکام کا جزیرہ' قرار دیا اور وابستہ حکومت کو خراج تحسین پیش کیا اور ثابت کرکے دکھایا کہ وہ ایران کو نہیں جانتے۔

آپ نے تاریخی واقعیات اور حقائق کی تشریح اور ملت ایران اور اسلامی جمہوری نظام کے مقابلے میں امریکہ کی گہری حساباتی خطاؤں (Calculation errors اندازوں اور تخمینوں میں غلطیوں) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ان ہی خطاؤں نے اس دن امریکہ کو شکست سے دوچار کیا اور آج بھی شکست کے سوا کچھ بھی اس کی قسمت میں شکست کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے "پہلوی حکومت کی سرنگونی میں قم کے قیام اور ملت ایران کی اٹھان کے اسباق اور اسباب" کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: "ہس نے ملت ایران کے پاس سخت وسائل ـ بشمول توپ اور ٹینک ناپید تھے، لیکن وہ نرم ہتھیار سے لیس تھی جو ہر میدان میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

آپ نے اسلام پر ایمان، دینی غیرت، ایمانی غیرت، احساسِ ذمہ داری، فرض شناسی اور ایران سے عشق و محبت کو کٹھ پتلی پہلوی حکومت کے مقابلے میں ملت ایران کے [کے پاس کے] نرم عناصر قرار دیا اور فرمایا: "قوم دیکھ رہی تھی کہ امریکی اور ان کے گماشتے اور صہیونیوں سے وابستہ عناصر ان کے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں اور یہی واقعیات نے اس قوم کو غضبناک اور متنفر کر رہے تھیں۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے امریکیوں کے جابرانہ رویوں کے مقابلے میں ملت ایران کی استقامت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: "آج ایران کی سربلند قوم نرم اور معنوی و روحانی ہتھیاروں کے لحاظ سے ـ اس دور کے مقابلے میں ـ زیادہ طاقتور، متحد اور آمادہ ہے اور سخت طاقت (Hard power) کے لحاظ سے اس دور سے قابل قیاس نہيں ہے۔

آپ نے ان لوگوں کو غافل قرار دیا جو امریکہ کے ساتھ ملت ایران کے مقابلے کے بارے میں بات کرنے سے ناراض ہوجاتے ہیں، اور فرمایا: "یہ لوگ اس حقیقت کو توجہ نہیں دے رہے ہیں کہ امریکہ اور اس سے وابستوں نے ملت ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور وہ ہیں جنہوں نے اس جنگ کو جاری رکھا ہؤا ہے؛ کیونکہ اسلامی جمہوریہ اپنے عوام کی حمایت سے، ایران کی دولت اور وسائل کو ان کے چنگل سے نکال باہر کیا ہے اور اسی مسئلے نے امریکہ کو ملت ایران سے منتفر اور غضبناک کر دیا ہے۔

رہبر انقلاب نے لاطینی امریکہ کے واقعات کو اقوام عالم کے قدرتی وسائل لوٹنے کی امریکی کوششوں کا ایک نمونہ قرار دیا اور فرمایا: "ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں اور انتہائی بے شرمی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے یہ کام تیل کے لئے کیا ہے۔ جیسا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے، ایران کا تیل، ایران کے فطری وسائل مستکبرین اور صہیونیوں اور ان سے وابستہ عناصر کے کنٹرول میں تھے۔"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکی کی مستقل دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اللہ کے فضل سے، اسلامی نظام روز بروز زیادہ سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے اور اسلامی نظآم کے خاتمے کے لئے ان کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں، اور اسلامی جمہوریہ دنیا میں طاقتور، سرخرو اور آبرومند ہے۔

آپ نے فرمایا: "مختلف النوع یلغاروں اور فوجی، سیکورٹی، اقتصادی، ثقافتی سازشوں، اور گماشتے بھرتی کرنے کے باوجود، دشمن کی ناکامیوں اور شکستوں کا سبب اسلامی جمہوری نظام کی حکمرانی ہے۔"

آپ نے مزید فرمایا: "اگر لبرل ڈیموکریسی، بادشاہت اور دوسروں سے وابستہ حکومت قائم ہوتی تو وہ اتنے شدید دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، لیکن یہ اسلامی جمہوری اور عوامی نظام ایران کو سائنس اور ٹیکلنالوجی اور بین الاقوامی پالیسیوں اور بہت سارے دوسرے شعبوں میں عظیم ترقیوں سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہؤا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی تنہائی کا دعوی یکسر مسترد کر دیا اور فرمایا: "یہ دعوے ـ جو اجنبیوں کی طرف سے شروع ہؤا کرتے ہیں، اور کچھ لوگ اندر سے بھی ان کی پیروی کرتے ہیں ـ حقیقت میں ان کی خودفریبی ہے کیونکہ آج کا ایران دنیا کی سطح پر ایک خودمختار، بہادر، شجاع اور مثبت مستقبل والا ملک سمجھا جاتا ہے۔

آپ نے نوجوانوں کو بہت سی فعالیتوں اور ترقیوں کا سرچشمہ قرار دیا اور فرمایا: "البتہ نوجوان اور عام لوگ سب ایک سطح پر نہیں ہیں لیکن مجموعی طور پر نوجوان طبقہ، دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈوں کے برعکس، ایران کی اہم ترین امتیازی خصوصیات میں سے ایک ہے۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا: "دشمن کی کوشش یہ ہے کہ ایرانی نوجوان کو ایک بہکے ہوئے، منحرف، مغرب نواز، دین سے بیگانہ، لاابالی اور غیر ذمہ دار، لاپروا، بدعنوان اور کم ہمت و کمزور عنصر کے طور پر متعارف کرا دے، جو 100 فیصد غلط ہے۔ ایران نوجوان وہ ہے جو جنگ میں بہادر اور جانباز ہے، دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے، سیاست میں روشن بین (Clear-sighted) ہے اور امریکہ کو اچھی طرح جانتا ہے، دینی امور میں اسلامی احکامات کا پابند ہے اور تمام میدانوں میں ـ جیسے 22 بہمن (11 فروری) اور یوم القدس کی ریلیوں میں، اعتکاف میں، مذہبی جشنوں اور عزاداریوں میں اور شہداء کی تشییع و تعظیم میں نمایاں طور پر حاضر رہتا ہے۔

آپ نے سائنسی تحقیقات اور ترقی میں ـ خلا میں سیارچے بھیجنے سے لے کر جوہری صنعت، سٹیم سیلز (Stem cells)، نانو ٹیکنالوجی اور ریڈيائی ادویات کی تیاری میں نوجوانوں کے بنیادی کردار کو ایرانی نوجوانوں کی تیاری اور کردار آفرینی اور ہر ضروری میدان میں آگے کی طرف پیش قدمی کا دوسرا جلوہ قرار دیا اور نوجوانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: "عزیز نوجوانو! دین، سیاسی فکر، ملک کی ترقی کے میدان میں حاضری، آمادگی اور سنجیدگی اور اپنے اتحاد و یکجہتی کا تحفظ کریں کیونکہ ایک متحد اور یکجہت قوم ہر دشمن پر غلبہ پا لیتی ہے اور ان شاء اللہ پوری ملت کے دلوں ميں فتح و کامیابی کا احساس عروج تک پہنچے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha