اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعارف کرائی گئی "غزہ بورڈ آف پیس" کو غزہ کی تعمیرِ نو اور امن کے قیام کے لیے ایک نیا بین الاقوامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کو آغاز ہی سے شدید عالمی تنقید، شکوک و شبہات اور منفی ردعمل کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی ڈیسک: "غزہ بورڈ آف پیس" یا ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد پیس کمیٹی امریکی صدر کا عالمی سیاست کے میدان میں تازہ ترین اقدام ہے، جسے غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی اور عالمی امن کے فروغ کے دعوے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، تاہم ابتدا ہی سے مختلف ممالک کی جانب سے اس پر شدید تنقید اور منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ منصوبہ ابتدا میں غزہ کے انسانی بحران کے خاتمے کے لیے ایک محدود ادارے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اب اس کا دائرہ عالمی سطح تک پھیل چکا ہے اور بہت سے مبصرین اسے امریکی یکطرفہ طرزِ عمل اور اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ کونسل کا ڈھانچہ، رکن ممالک کی ترکیب اور مالی ماڈل، سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ اس ادارے کی قانونی حیثیت اور غیرجانبداری کے بارے میں سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔
ٹرمپ بورڈ آف پیس کی تشکیل اور اہداف
ابتدا میں بورڈ آف پیس غزہ میں مجوزہ ۲۰ نکاتی جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھی، جسے امریکہ نے پیش کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت حاصل تھی۔ اس کا ابتدائی مقصد فلسطینی مسلح گروہوں کے اسلحے کی نگرانی اور غزہ کی تعمیر نو تھا۔
تاہم جاری کردہ ابتدائی آئین کے مسودے کے مطابق، اب یہ بورڈ متنازعہ علاقوں میں امن اور استحکام کی نگرانی کا دعویٰ کرتی ہے، جس سے اس کے دائرہ کار کے مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
اس بورڈ کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس غیر معینہ مدت کے لیے ہوگی، جبکہ ان کے داماد جیرڈ کشنر، مارکو روبیو، ٹونی بلیئر اور چند معاشی و بینکاری شخصیات بانی انتظامی کمیٹی کا حصہ ہوں گی۔ ناقدین کے مطابق، اس ترکیب سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو ایک سیاسی و قانونی عمل کے بجائے ایک معاشی اور سرمایہ کاری پر مبنی منصوبہ بن کر رہ جائے گی۔
رکن ممالک اور عالمی ردعمل
چند ممالک، بالخصوص مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے، ٹرمپ کی دعوت قبول کر چکے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، مصر، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا اور ویتنام شامل ہیں۔ اسرائیل نے بھی، ترکی اور قطر کی شمولیت پر اعتراض کے باوجود، اس بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے برعکس، یورپی ممالک جیسے فرانس اور ناروے نے دعوت مسترد کر دی ہے، جبکہ اٹلی اور آئرلینڈ نے محتاط انداز میں معاملے کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ یوکرین نے روس کے ساتھ بیک وقت شمولیت پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ چین کی جانب سے تاحال کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
مزید یہ کہ روس اور بیلاروس جیسے ممالک، جو خود فعال تنازعات میں ملوث ہیں، کو بھی رکنیت کی دعوت دی گئی ہے، جس پر شدید عالمی تنقید کی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کا ایک متنازع پہلو مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی شرط ہے۔ اگرچہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ رقم غزہ کی تعمیر نو پر خرچ کی جائے گی، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے بدعنوانی اور امن کے تجارتی استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اہم خدشات
1. طاقت کا ارتکاز اور قانونی حیثیت: ٹرمپ کی غیر معینہ صدارت اور قریبی شخصیات کی شمولیت نے بورڈ کی خودمختاری اور جوابدہی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
2. اقوامِ متحدہ کا کردار کمزور ہونا: ٹرمپ کے بیانات اور آئینی مسودے کی زبان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔
3. فلسطینی نمائندگی کا فقدان: انتظامی ڈھانچے میں کسی فلسطینی نمائندے کی عدم موجودگی پر شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
4. اسرائیلی تضاد: ترکی اور قطر جیسے ممالک کی شمولیت نے خود اسرائیل میں بھی اس منصوبے پر تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔
5. عالمی اثرات: چین اور یورپی یونین کی غیر یقینی پوزیشن اور روس و بیلاروس کی شمولیت اس منصوبے کی عالمی قبولیت کو مشکوک بناتی ہے۔
آپ کا تبصرہ