24 جنوری 2026 - 17:37
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان کا مؤقف: ’’غزہ امن کمیٹی‘‘ فلسطین پر قبضے کی نئی استعماری سازش ہے

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قائم کردہ ’’غزہ امن کمیٹی‘‘ دراصل استعمار کے نئے منصوبے کا حصہ اور فلسطینیوں کے وسائل پر قبضے کی ایک تازہ کوشش ہے، جسے مکمل طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی ’’غزہ امن کمیٹی‘‘ کسی بھی صورت امن کی کوشش نہیں بلکہ استعماری نظام کی نئی سازش اور فلسطینی عوام کے وسائل پر قبضے کی ایک اور چال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی پاکستان حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس کمیٹی میں شمولیت کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اس کمیٹی میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر جیسے افراد شامل ہیں، جنہیں عراق کی تباہی کے بڑے ذمہ داروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی نام نہاد ’’امن کمیٹی‘‘ درحقیقت نئے استعماری نظام کی ایک نئی شکل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی ’’غزہ امن کمیٹی‘‘ فلسطینی زمینوں اور وسائل پر قبضے کا ایک نیا طریقہ ہے، اور غزہ کی تعمیر نو کے نام پر امریکی بالادستی مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارتِ خارجہ پاکستان کا یہ دعویٰ کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ میں تحفظ اور امن کے قیام کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے، زمینی حقائق سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات کھل کر کہہ چکے ہیں کہ ان کی ’’امن کمیٹی‘‘ ایک دن اقوامِ متحدہ کی جگہ لے سکتی ہے، لہٰذا ایسے موقف کے بعد پاکستان کے لیے اس طرح کی کسی کمیٹی میں شامل ہونے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha