3 جنوری 2026 - 17:30
احتجاجیوں سے بات کرتے ہیں، لیکن فسادیوں کو  اپنی جگہ بٹھانا ہوگا، رہبر انقلاب

حضرت آیت اللہ اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای نے آج صبح شہدائے عظمت کے خاندانوں سے ملاقات میں فرمایا: "ہم احتجاج کرنے والوں سے بات کریں گے لیکن فسادی سے بات کرنے کا فائدہ نہیں۔ فسادی کو اس کی جگہ بٹھا دینا چاہئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی انقلاب کے رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے آج صبح ولادتِ مولیٰ الموحدین امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی مبارک سالگرہ اور جنرل سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر، 12 روزہ جنگ کے عظیم شہداء (شہدائے عظمت) کے خاندانوں سے ملاقات میں، امیرالمؤمنین کی عدالت اور تقویٰ کو ملک کی ضرورت کی دو اہم چوٹیاں اور معاشرے کے انتظآم کے لئے ضروری ترین خصوصیات قرار دیا؛ اور دشمنوں کی "نرم جنگ" کے مقابلے میں ہوشیاری اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، فرمایا: "دھوکہ، جھوٹ، بہتان اور افواہ" پر مبنی یہ جنگ وہی جنگ ہے جو علوی حکومت کے دشمنوں نے اس امام کے خلاف فوجی شکستوں کے بعد شروع کی تھی تاکہ آپؑ کے مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹ ڈال سکیں۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے امیرالمؤمنین کی سالگرہ کو مقام ولادت - یعنی بیت اللہ - اور اس کے مولود، کے اعتبار سے تاریخ میں ایک خاص دن قرار دیا۔ اور فرمایا: "آپؑ کی بے مثال خصوصیات میں سے، ہمیں آج دو خصوصیات یعنی "عدالت اور تقویٰ" کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں مولیٰ المتقین کو نمونۂ عمل بنا کر ان دو چوٹیوں کی طرف بڑھنا چاہئے جن پر حضرت امیرؑ کھڑے ہیں۔ البتہ اس راستے میں ہم نے کچھ پیشرفت کی ہے لیکن جہاں تک ہمیں پہنچنا چاہئے، وہاں تک ابھی کچھ فاصلہ باقی ہے۔

رہبر انقلاب نے حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے ہاں عدالت کے نفاذ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "آپؑ کبھی عدالت کو "شفقت، کمزوروں اور بے سہارا خاندانوں کی خدمت" کے ذریعے نافذ کرتے تھے، کبھی "ذوالفقار اور الٰہی سختی" کے ذریعے اور کبھی "صریح زبان، حکمت اور وضاحت" کے ذریعے۔"

رہبر انقلاب نے امیرالمؤمنین کو جہادِ تبیین کا سرچشمہ قرار دیا اور فرمایا: "ان کا مالک اشتر کو لکھا گیا حکومتی فرمان ایسے مفاہیم سے بھرا ہؤا ہے جو عدالت (عدل و انصاف) کے قیام پر منتج ہوتے ہیں۔"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے امام علی (علیہ السلام) کے تقویٰ کی روشوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کبھی تقویٰ کو عبادت گاہ، نماز اور خدا کے حضور گڑگڑاہٹ میں ظاہر و عیاں کرتے تھے اور عرش کے فرشتوں کو حیرت اور رشک میں ڈال دیتے تھے؛ کبھی مسلمانوں کی وحدت کو قائم رکھنے اور ان کے درمیان اختلاف کا راستہ روکنے کے لئے اپنے حق سے صبر، خاموشی کے ساتھ چشم پوشی کے ذریعے، تقویٰ کو عملی جامہ پہناتے تھے اور کبھی "لیلۃ المبیت" اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے غزوات میں [دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہوکر۔"

آپ نے عوام بالخصوص ذمہ داران کے لئے حضرت امیرؑ کے تقویٰ کے طریقوں پر عمل کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "عدالتِ علویہ بھی ملک کی سب سے سنجیدہ اور بنیادی اور اہم ترین ضرورت ہے اور آج ہمارے پاس ـ تاریخ کے شیعوں کے برعکس، ـ عدالت کی پیروی نہ کرنے اور اسے نافذ نہ کرنے کے لئے کوئی عذر نہیں ہے۔ کیونکہ حکومتی نظام "اسلامی جمہوریہ اور علوی نظام" ہے۔

رہبر انقلاب نے عدالت و تقویٰ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: "کبھی خوف، کبھی تذبذب اور دوستیوں کی رعایت، اور کبھی دشمن کی رعایت آڑے آتی ہے؛ لیکن بلاوجہ کی رعایت دیئے بغیر، عدالت و تقویٰ کے فروغ کی طرف بڑھنا چاہئے۔

آپ نے امت اور ذمہ داروں کی توجہ امیرالمؤمنینؐ کی زندگی کے ایک اہم نکتے کی طرف مبذول کراتے ہوئے فرمایا: "اس بات پر دھیان دینا چاہئے کہ مولیٰ المتقینؑ رسول اللہؐ کے زمانے اور اپنی خلافت کے سالوں میں تمام فوجی مہمات میں فاتح اور کامیاب رہے لیکن شکست خوردہ دشمنوں کی طرف سے عوام کو دھوکہ دینے اور سست کرنے کی مختلف چالیں، بہت سے مواقع پر امیرالمؤمنین علیؑ کے اہداف کی تکمیل میں رکاوٹ بن گئیں۔"
رہبر انقلاب نے افواہوں کی تخلیق، جھوٹ اور فریب کے استعمال، نفوذ (اثر و رسوخ اور دراندازی) اور اسی قسم کی دوسری چالوں کو ـ جو آج کے اصطلاحی معنوں میں "نرم جنگ" کہلاتی ہیں، ـ مولیٰ المتقین کے دشمنوں کی پالیسی قرار دیا تاکہ اس دور کے معاشرے کو بے مقصد اور شک میں مبتلا، کیا جا سکے۔ 
آپ نے فرمایا: "جب عوام سست ہو جائیں تو اہداف کی تکمیل ناممکن ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سنتِ الٰہیہ کے مطابق کام عوام کے ہاتھ میں ہے اور ان ہی کے ذریعے انجام پاتا ہے۔"
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے نرم جنگ میں دشمن کے مقصد، عوام کو بے مقصد اور مایوس بنانا، اور قوم میں شکوک و شبہات پیدا کرنا، قرار دیا اور فرمایا: "جیسا کہ امیرالمؤمنین کے دور میں عوام کو بدظن کرنے کے لیے افواہ سازی اور جھوٹ کا سہارا لیا گیا، آج بھی بالکل وہی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ البتہ ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ مشکل میدانوں میں اور ہر جگہ، جہاں ان کی موجودگی اور مدد کی ضرورت ہو، وہ مضبوطی سے کھڑی ہے اور دشمن کو مایوس کر دیتی ہے۔"
آپ نے ایرانی قوم کے مضبوط جذبے کو بدخواہوں کی تشویش کا باعث قرار دیا اور مزید فرمایا: "نرم جنگ کے میدان میں دشمن اور کچھ نااہل یا غافل افراد کا ایک ہتھیار، ایرانی قوم کی 'کامیابیوں اور صلاحیتوں کا انکار' ہوتا ہے۔ کیونکہ قومی صلاحیتوں سے غفلت، دشمن کے سامنے ذلت اور ہتھیار ڈالنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔"

آپ نے ایک ہی دن میں تین سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے اور ایرو اسپیس، بائیو ٹیکنالوجی، طب، علاج معالجے، نینو اور دفاع و میزائل سازی جیسے مختلف سائنسی شعبوں میں ایران کی حیرت انگیز ترقی کو ملک و قوم کے باصلاحیت نوجوانوں کے بڑے کارنامے قرار دیا؛ اور فرمایا: "دشمن ـ اور بدقسمتی سے کچھ اندرونی عناصر ـ پابندیوں کی صورت حال میں حاصل کی گئی ان بڑی ترقیوں کو چھپاتے ہیں اور عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے مزید فرمایا: "وہ عنصر جس نے 12 روزہ جنگ میں دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد بھی یہ پیغام دیا کہ ہم آپ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے، وہ ایرانی قوم کی طاقت و صلاحیت ہے۔ گوکہ ہم اس خبیث، شریر، فریبی اور جھوٹے دشمن کی بات پر اعتماد نہیں کرتے۔"

آپ نے فرمایا: "حالیہ تین سیٹلائٹس کے اجراء میں شامل سائنسدانوں کی اوسط عمر 26 سال ہے جو کہ ایرانی قوم کے انسانی وسائل کے عظیم خزانے کا نمونہ ہے۔ اس وقت وہ ہرزہ سرائی کرنے والا امریکی جب ایرانی قوم کے بارے میں بات کرتا ہے تو کچھ بدگوئی کرتا ہے، کچھ دھوکہ دیتا ہے، اور پھر وعدے بھی دیتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے آج ایرانی قوم بلکہ پوری دنیا نے امریکہ کو پہچان لیا ہے اور اس کی رسوائی پوری دنیا میں طشت از بام ہو چکی ہے۔"

رہبر انقلاب اسلامی نے 'دشمن کی حقیقی پہچان' کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور فرمایا: "عوام نے 12 روزہ جنگ میں خود امریکہ کی حقیقت کو دیکھ لیا۔ حتی کہ وہ لوگ بھی جو ملک کے مسائل کا حل امریکہ سے مذاکرات میں دیکھتے تھے، انہیں بھی معلوم ہو گیا کہ مذاکرات کے دوران ہی امریکی حکومت جنگ کی تیاری میں مصروف تھی۔"
آپ نے نرم جنگ کے خلاف، اور دشمن کی طرف سے شک و شبہات اور افواہیں پھیلائے جانے کے خلاف، چوکس رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اور اطلاعاتی مراکز کے ذریعے ایران کے اندر جھوٹے بیانات پھیلانے پر اربوں ڈالر خرچ کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "ان کا مقصد ملک کو کمزور کرنا اور 12 روزہ جنگ میں قوم کے معجزنما اتحاد کو توڑنا ہے۔ اس لئے سب سے اہم بات دشمن کی دشمنی پر توجہ دینا اور اندرونی اتحاد و اتفاق کا تحفظ کرنا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "اَشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُم؛ مؤمنین کافروں پر سخت اور آپس میں نرم دل ہوتے ہیں"۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں گذشتہ ہفتے بازار والوں کی اجتماعات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بازار اور تاجر نظام اور اسلامی انقلاب کے سب سے وفادار طبقات میں سے ہیں اور ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسی لئے بازار اور تاجر کے نام پر اسلامی جمہوریہ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔"

آپ نے قومی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تاجروں کے احتجاج کو، ـ جو کاروباری ماحول کو غیر مستحکم کرتی ہے، ـ ایک صحیح عمل قرار دیا اور فرمایا: "تاجر سچ بولتا ہے کہ ان حالات میں وہ کاروبار نہیں چلا سکتا۔ ملک کے ذمہ داران بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور صدر محترم اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اس مسئلے کے حل کے لئے کوشاں ہیں۔" رہبر انقلاب نے مزید فرمایا: "البتہ اس مسئلے میں بھی دشمن کا ہاتھ ہے اور غیر ملکی کرنسی کی غیر مستحکم اور بے تحاشہ بڑھتی ہوئی قیمت، جو تاجروں کو بے یقینی کا شکار بناتی ہے، فطری اور معمول کے مطابق نہیں ہے۔ مختلف تدابیر و انتظامات کے ذریعے اس پر قابو پانا ضروری ہے، جس میں ذمہ داران مصروف عمل ہیں۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے زور دیتے ہوئے فرمایا: "تاجروں کا اس مسئلے پر احتجاج جائز اور صحیح لیکن جو چیز ناقابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ دشمن کے بھڑکائے ہوئے یا ان کے کرائے کے گماشتے تاجروں کے پیچھے کھڑے ہو کر اسلام، ایران اور جمہوریہ اسلامی کے خلاف نعرے لگائیں۔"

آپ نے فرمایا: "احتجاج تو جائز ہے لیکن احتجاج فساد اور بلوؤں سے سے الگ چیز ہے"، چنانچہ ذمہ داران کو احتجاجیوں سے بات چیت کرنی چاہئے لیکن فسادی سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں؛ اسے تو بس اس کی جگہ پر بٹھانا چاہئے۔"

رہبر انقلاب نے مزید فرمایا: "کچھ لوگوں کا ـ مختلف عنوانوں اور ناموں کے تحت ملک کو تباہ کرنے اور عدم تحفظ پیدا کرنے کے مقصد سے ـ مؤمن، صحت مند اور انقلابی تاجروں کے پیچھے کھڑا ہونا اور ان کے احتجاج کا غلط فائدہ اٹھا کر فساد کرنا، مطلقاً قابل قبول نہیں ہے۔"

آپ نے فرمایا: "دشمن کا کام ہمیشہ 'موقع پرستی' اور مواقع سے غلط فائدہ اٹھانا ہے، بایں وجود، ذمہ دار افراد میدان میں موجود ہیں؛ اہم بات پوری قوم کی تیاری اور  ایمان، اخلاص اور عمل جیسے عوامل کو مضبوط کرنا ہے اور یہ وہی عوامل ہیں جنہوں نے سلیمانی کو "سلیمانی" بنایا۔ اہم بات یہ ہے کہ نرم جنگ اور دشمن کی افواہ سازی کے سامنے غیر جانبدار اور خاموش نہ ہوں اور اس کے مطالبے کو ذمہ داران، حکومت اور قوم پر زبردستی مسلط کرنے کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ سینہ سپر ہو کر ڈٹ جائیں۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے زور دے کر فرمایا: "ہم دشمن کے سامنے جھکیں گے نہیں اور خدا پر بھروسہ اور عوام کی حمایت پر اعتماد کرتے ہوئے، دشمن کو گھٹنوں ٹیکنے پر مجبور کریں گے"۔

آپ نے  اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں [اس سال] عالی قدر شہید الحاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی برسی کے تیرہ رجب کے دن پر آنے کا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "تین خصوصیات یعنی "ایمان"، "اخلاص" اور "عمل"، اس عزیز شہید کی بنیادی خوبیاں تھیں جو ہمارے زمانے میں ایک جامع اور کامل انسان سمجھے جاتے تھے۔"

آپ نے خدائے بزرگ و برتر پر گہرا ایمان اور اللہ کی مدد پر ایمان اور اپنے مقصد پر یقین کو "دلوں کے سردار" (جنرل سلیمانی) کی نمایاں خصوصیت قرار دیا اور فرمایا: "الحاج قاسم ایک الٰہی اخلاص کے حامل انسان تھے اور ناموری اور دوسروں کی تعریف کمانے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔"

رہبر انقلاب نے تمام ضروری میدانوں میں جنرل  سلیمانی کی موجودگی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "وہ ان لوگوں کے برعکس تھے جو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اچھی طرح بولتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے، وہ ہر اس میدان میں موجود ہوتے تھے جہاں ضرورت ہوتی تھی؛ چاہے وہ انقلاب کی آگے کی طرف حرکت کو محفوظ رکھنے اور اس کی رہنمائی کرنے اور کرمان میں شرپسندوں کا سامنا کرنے کی صورت میں ہو، چاہے قدس فورس میں، حرم کی حفاظت میں، داعش کے مقابلے میں، یا دوسرے میدانوں میں۔

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے خطے کے سب سے حساس اور اہم سیاسی مسائل پر سردار کے واضح اور کبھی کبھار بے مثال اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید فرمایا: "الحاج قاسم نے اپنے ساتھیوں اور ماتحت فوجیوں کی تربیت اور نشوونما پر نمایاں توجہ دی اور انہی خصوصیات کی وجہ سے، ان کا مزار ہر سال پچھلے سال سے زیادہ مقدس اور محترم ہوتا جا رہا ہے اور دور دراز راستوں اور یہاں تک کہ دیگر ممالک سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کے مزار کی زیارت کے لیے آتی ہے۔"

رہبر انقلاب نے جلسے میں 12 روزہ جنگ کے عزیز شہیدوں کے خاندانوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "یہ اجلاس بارہ روزہ مقدس دفاع کے تمام شہیدوں اور ان کے خاندانوں کی تعریف، احترام اور تکریم کے لئے منعقد کیا گیا ہے؛ خواہ وہ جہاد اور شہادت کے مشتاق کمانڈر ہوں، یا وہ باصلاحیت سائنسدان ہوں، یا دوسرے شہداء۔"

آپ نے زور دے کر فرمایا: "ان تمام شہیدوں کے نام تاریخ میں زندہ رہیں گے اور ہمیں ان مبارک ناموں کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha