29 نومبر 2025 - 23:42
مآخذ: ڈان نیوز
افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور دہشتگرد قیادت موجود، طالبان سہولت کاری بند کریں، پاکستان

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں، مہمان ہیں، غیر منطقی ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں، تو انہیں ہمارے حوالے کریں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ کیسے مہمان ہیں، جو مسلح ہوکر پاکستان آتے اور دہشتگردی کرتے ہیں؟ امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت 7 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑ دیا، یہی اسلحہ دہشتگردی میں استعمال ہو رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا
افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے دوحہ معاہدے پر پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔
نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خود کش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں گھوم رہی ہوں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ 
دہشتگرد تشکیلیں، اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ خوارج دہشتگرد 'پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ' کے سہولت کار ہیں, سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ موجود ہے۔
رواں سال ملک میں مجموعی طور پر ایک ہزار 873 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں 136 افغان باشندے شامل ہیں۔
رواں سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، خیبرپختونخوا میں 12 ہزار 857 اور صوبہ بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے،
• 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
بارڈرمینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کےخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گذار راستوں پر مشتمل ہے، خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے۔
خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجودہیں، پاک افغان سرحد پرچوکیوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر بھی ہے، آبزرویشن اور فائر کور (Firecover) نہ ہونے پر بارڈر فینس مؤثر نہیں ہیں۔
•  ہر 2 سے 5 کلومیٹر پر قلعہ بنانے اور ڈرون سے نگرانی کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبرپختونخوا میں بارڈر کے اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں؛ [گاؤں کا ایک حصہ افغانستان میں اور دوسرا پاکستان میں واقع ہے۔]
خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن طالبان حکام دہشتگردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔
ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ غیر قانونی اسپیکٹرم کی بڑی وجہ ہے، تاہم اب ڈیزل کی اسمگلنگ کیخلاف کارروائیوں کے بعد اس میں کمی آئی ہے۔
افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے، جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابل تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔
اگر قابلِ تصدیق میکانزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہو گا، ثالث ممالک بھی پاکستان کے اس مؤقف سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں۔
بھارت خود فریبی کا شکار
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ’ٹریلر‘ کہنا خود فریبی ہے، 7 جہازوں کی تباہی، اسلحہ ڈپو، دفاعی نظام ایس 400 کا خاتمہ ان کے لیے 'ہارر مووی' بن چکا ہے۔

وضآحت: یہ رپورٹ صرف صارفین کی اطلاع کے لئے دوبارہ شائع کی ہے، اوراس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ابنا خبر ایجنسی پاکستانی فوج کے ترجمان کے موقف سے متفق ہے؛ جقیقت یہ ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان جلد از جلد مصالحت اور مفاہمت کی فضا برقرار ہو جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha