-
ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی بیانات پر امریکی قانون سازوں کا احتجاج
امریکا میں متعدد قانون سازوں نے سابق صدر کی ایران مخالف پالیسیوں اور ممکنہ جنگی اقدامات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مختلف سینیٹرز اور اراکینِ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیانات میں خبردار کیا کہ ایران کے خلاف نئی جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
-
امریکہ میں کانگریس کے اراکین کی ایران کے خلاف جنگی پالیسیوں پر تنقید جاری
امریکہ کے ایک کانگریس رکن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ پسندانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔
-
امریکی سلطنت اخلاقی گراوٹ کے بھنور میں؛
ایپسٹین کیس؛ انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے آزاد ماہرین نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں موجود الزامات کو ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے دیا۔
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
ٹرمپ کا ہاتھ پر پڑا نیل ایک بار پھر میڈیا کی سرخی بنا
79 سالہ امریکی صدر اپنے ہاتھوں پر پڑے نیل کے بارے میں ایک بار پھر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دینا پڑا۔
-
شیخیوں نے مشکل میں ڈال دیا؛
امریکہ نے ایران پر حملے سے پسپائی اختیار کر لی لیکن کیوں؟ + ایک نکتہ
ٹرمپ نے ایران میں بلوائیوں کی حمایت، کہا: "جاؤ لڑو میں تمہارا حامی ہوں"، ابھی کوئی مسلحانہ حملہ ہؤا ہی نہیں تھا کہ ٹرمپ نے کہا: "اگر ایران نے کسی احتجاجی کو مارا تو ہم ایران پر حملہ کریں گے"، کہا: "جاؤ لڑو ہماری مدد پہنچ رہی ہے"، لیکن ایک دفعہ جب پوچھا گیا کہ "ایران میں کچھ لوگ مارے گئے ہیں آپ کا وعدہ کیا ہؤا؟ بولے: "کچھ لوگ بھیڑ میں کچلے گئے ہیں، جن کے لئے میں کسی کو ملزم نہیں ٹہرا سکتا!" [۔۔۔]
-
تدبر فی القرآن؛
میثاق حدیبیہ؛ جنگ بندی یا صلح؟ - 2
قرآن کے ادب میں کلیدی لفظ "صلح" دو مسلمانوں کے گروہوں یا مسلم معاشرے کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں، صلح سے مراد ـ ہر لحاظ سے ـ تعلقات کی اصلاح صرف دو مومن گروہوں اور مسلم معاشرے کے درمیان ہے اور یہ کلیدی لفظ اس معاہدے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کا ایک فریق مشرکین اور کفار پر مشتمل، اور دشمن ہو اور دوسری طرف مسلمان ہوں۔ لہٰذا، دشمنوں کے ساتھ جنگ و جدال ختم کرنا "جنگ بندی" کہلاتا ہے اور یہ بنیادی طور پر "صلح" سے مختلف ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ چہارم | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہیکس
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہیکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔
-
شیخیوں نے مشکل میں ڈال دیا؛
ٹرمپ ایران کے ساتھ فوری سمجھوتے کے لئے بے قرار، لیکن کیوں؟
ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ کے مؤقف سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دھمکی کے سوا، ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لئے 'عحلت' کا عنصر بھی نمایاں ہے، لیکن اس عجلت کی وجہ کیا ہے؟
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ سوئم | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہکس
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔
-
امریکی کانگریس کے قریب سیکورٹی حادثہ
امریکی پولیس نے منگل کے روز امریکی کانگریس کے قریب مبینہ طور پر ایک مسلح شخص کی گرفتاری کی خبر دی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
میثاق حدیبیہ؛ جنگ بندی یا صلح؟ - 1
قرآن کے ادب میں کلیدی لفظ "صلح" دو مسلمانوں کے گروہوں یا مسلم معاشرے کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں، صلح سے مراد ـ ہر لحاظ سے ـ تعلقات کی اصلاح صرف دو مومن گروہوں اور مسلم معاشرے کے درمیان ہے اور یہ کلیدی لفظ اس معاہدے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کا ایک فریق مشرکین اور کفار پر مشتمل، اور دشمن ہو اور دوسری طرف مسلمان ہوں۔ لہٰذا، دشمنوں کے ساتھ جنگ و جدال ختم کرنا "جنگ بندی" کہلاتا ہے اور یہ بنیادی طور پر "صلح" سے مختلف ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ دوئم | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہکس
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔
-
حدیث ولایت؛
امریکی جہازوں سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو انہیں سمندر کی تہہ تک پہنچا سکتا ہے، امام خامنہ ای
رہبر معظم انقلاب نے امریکیوں کی دھمکی اور اقدام یعنی ایران کی طرف جنگی جہاز بھیجنے کے بارے میں فرمایا: بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک شیۓ ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو بحری جہاز کو [ڈبو کر] سمندر کی گہرائی میں پہنچا سکتا ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ اول | ٹرمپ حکومت امریکی اخلاقی-روحانی انحطاط کا مصداق / ممدانی، تبدیلی کی نوید / ایران اور امریکہ کے عوام امن کے پیامبر ہو سکتے ہیں! سینڈر ہکس
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس کہتے ہیں: اگر ایران اور امریکہ جغرافیائی-سیاسی تصور میں دشمن سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان دو ملکوں کی قومیں این دوسرے کے لئے ـ امن و سلامتی کے حصول کے لئے ـ شرکاء بن سکتی ہیں۔
-
ٹرمپ کی شیخیاں؛
مستضعفین کا خدا تو یہیں ہے، نیوجرسی [ڈسٹرائر] کہاں ہے؟!
سنہ 1983 میں جب امریکی جنگی جہاز "نیوجرسی" لبنان میں بحیرہ روم کے پانیوں میں داخل ہؤا؛ تو ایک عیسائی انتہاپسند شخص نے لکھا: "کہاں ہے مستضعفین کا خدا جو نیوجرسی ڈسٹرائر کے مقابلے میں کچھ کرکے دکھائے؟!" جب شہید عماد مغنیہ نے امریکی فوجی ہیڈکوارٹر منہدم کرکے 240 امریکی میرینز کو ہلاک کر دیا اور نیوجرسی ڈسٹرائر بھی چلتا بنا! تو [۔۔۔]
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
کیلیفورنیا کے گورنر کا تاریخی اعتراف؛ امریکہ عالمی عدم استحکام کا مجرم
کیلیفورنیا کے گورنر کے بیانات نے امریکہ کی سیاسی اور اخلاقی بنیادوں میں موجود، گہرے بحران کو آشکار کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج امریکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عدم استحکام کا ذریعہ بن گیا ہے۔ یہ اعتراف امریکی بالادستی کے زوال اور عالمی نظام کی کثیرقطبیت کی طرف منتقلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
ٹرمپ نے جارحانہ پالیسیاں کا سبب کیا ہے؟ / نئی عالمی ترتیب میں عالم اسلام کی پوزیشن
امریکہ نے کس قانون کی بنیاد پر وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو رات کے اندھیرے میں ان کے گھر سے اغوا کیا؟ یا اسرائیل نے قطر پر حملے کے لئے کس بین الاقوامی اصول پر انحصار کیا؟ کوئی نہیں۔
-
جاہلیتوں کا موازنہ؛
رسوائے عالم لبرل جمہوریت و سرمایہ داری
عید بعثت (17 جنوری 2026ع) کے دن، رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے کلام کا ایک عمدہ ترین اقتباس "عصر بعثت کی جاہلیت اور عصرِ انقلابِ اسلامی کی جاہلیت" کا موازنہ تھا۔
-
امریکہ ان ٹربل؛
امریکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار چکا ہے
مشہور عرب صحافی عبدالباری عطوان نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا: ذرائع ٹرمپ کی ہلڑبازیوں اور دھمکیوں سے بھرے ہوئے ہیں، لیکن یہ سب صرف ایک نفسیاتی جنگ ہے اس حقیقت کو چھپانے کے لئے کہ امریکہ ایران سے ڈرتا ہے / ایرانی ایک 10 سے 15 ہزار سالہ تاریخ کے وارث ہیں جو صرف ایک ٹوئیٹ پیغام سے دھوکہ نہیں کھاتے، حالانکہ ہم عرب ابھی تک سبق نہیں سیکھتے، کھربوں ڈالر امریکیوں کو ادا کرتے ہیں جو ایرانیوں سے ڈرتے ہیں۔
-
لبرل مغرب کا حتمی اخلاقی زوال؛
ایپسٹین کا ’بچوں کا باڑہ یا 'بیبی رینج' نئی دستاویزات میں خوفناک انکشافات
ایپسٹین کے نیو میکسیکو میں واقع زورو رینچ سے متعلق متاثرین کے بیانات نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
-
امریکہ بڑا شیطان؛
حصۂ چہارم | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔
-
لبرل مغرب کا حتمی اخلاقی زوال؛
ایپسٹین کیس کی ہولناک تفصیلات؛ 'عمارت 301' کا راز
جیفری ایپسٹین کے کیس سے تازہ ترین منظر عام پر آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نیویارک میں اپنی پرتعیش حویلی سے صرف چند گلیاں چھوڑ کر، ایک عمارت کو بچیوں کی رہائش اور نقل و حرکت کا مرکز بنا دیا تھا۔
-
وینزویلا کے عبوری صدر کا اعلان: نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی صدر ہیں
وینزویلا کی عبوری صدر نے کہا ہے کہ بدستور ملک کے قانونی اور آئینی صدر ہیں، اگرچہ وہ اس وقت امریکہ میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ سوئم | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔
-
امریکہ بڑا شیطان؛
حصۂ دوئم | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔
-
لبرل مغرب کا حتمی اخلاقی زوال؛
درندگی کی برہنگی
انسان بحیثیت انسان اتنی خوفناک اور بھیانک واقعات کا تصور کرنے سے بھی عاجز ہے؛ جن میں سے صرف ایک واقعہ منظر عام پر آیا ہے، وہ بھی لبرل مغربی تہذیب کی حَضِیض اور پستی کے عین موقع پر: "ایپسٹین" کا تلخ اور شرمناک واقعہ!
-
امریکہ بڑا شیطان؛
حصۂ اول | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز
دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔
-
امریکی شہریوں کا نتن یاہو کے دورے کے خلاف احتجاج
صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے امریکہ دورے کے خلاف واشنگٹن میں مظاہرے کیے گئے۔
-
امریکی سلطنت اخلاقی گراوٹ کے بھنور میں؛
ایپسٹین کیس اور مغربی تہذيب کی درندگی کی برہنگی
مصری خارجہ امور کی کونسل کے ایک رکن نے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایران کی میزائل صلاحیت فوجی تصادم کی طرف جانے میں امریکیوں کی احتیاط کا اہم ترین عنصر تھا / آنے والی بات چیت تناؤ پر قابو پانے کی کوشش ہے۔
-
مغرب کی بے نقاب ہوتی ہوئی لبرل جمہوریت؛
ایپسٹین کیس؛ مغربی لبرل جمہوریت کی حتمی پیداوار
ایپسٹین ایک حاشیائی اور معمول کردار نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا فرد ہے جس تک امریکہ اور یورپ کے سیاسی، مالی اور میڈیا اشرافیہ کی وسیع پہنچ تھی۔ اس کے اردگرد اعلیٰ سطحی سیاستدانوں، ارب پتیوں، علمی شخصیات اور بااثر افراد کی بار بار موجودگی نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا کہ طاقت کا ایک نیٹ ورک برسوں سے "قانون کے محفوظ کنارے" میں اپنے یا اپنے آقاؤں کے لئے کام کر رہا تھا۔