بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں تیزرفتاری سے آزادی کی تصویر کشی کی ہے؛ ایسی تبدیلی جو در حقیقت تبدیلیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ثابت ہوئی۔
چوتھی اور آخری قسط:
جنگ بندی، جس نے انصاراللہ کو مضبوط کیا:
نیویارک ٹائمز مزید حملے سے پہلے کے مہینوں کی طرف لوٹتا ہے اور لکھتا ہے کہ سنہ 2022ع میں شروع ہونے والی جنگ بندی نے انصاراللہ کے لئے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی فوجی طاقت اور ہتھیاروں کا ذخیرہ مضبوط کرے اور بیرونی ذرائع پر اپنا انحصار کم کرے۔
اس کے برعکس، یمن میں سعودی عرب سے وابستہ [نام نہاد] حکومت اس جیسی پیش رفت نہ کر سکی اور صنعا کی افواج کے حملوں کے باوجود، سعودی عرب اور امارات سے وابستہ ملیشیائیں اب بھی بالکل منقسم اور باہمی محاذ آرائی کی طرف راغب ہیں۔
طارق صالح اُس موقع پر تقریباً 50 ہزار افراد کی فورس کا کمانڈر تھا جو جنوب اور باب المندب کی طرف انصاراللہ کی پیش قدمی کے سامنے رکاوٹ سمجھی جاتی تھی۔ وہ پہلے امارات کی حمایت پر انحصار کرتا تھا، لیکن ابوظہبی [بظاہر] جنوری میں سعودی عرب کے ساتھ اختلاف [اور باہم خونریز لڑائیوں] کے بعد یمن سے نکل گیا۔
اس کے بعد، سعودی عرب نے عدن میں قائم [امارت کی کٹھ پتلی] حکومت سے وابستہ گروہوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور طارق صالح کی افواج کا اہم حامی بن گیا۔
واشنگٹن میں خلیج فارس کے عرب ممالک کے ادارے کے محقق "گریگوری جانسن (Gregory D. Johnsen)" نے یمن میں سعودی عرب سے وابستہ [نام نہاد] حکومت کو عملاً "خیالی [دنیا کی] حکومت" قرار دیا اور کہا کہ اس کے ارکان اپنا زیادہ تر وقت انصاراللہ کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے لڑنے میں صرف کرتے ہیں [یا پھر ریاض کے ہوٹلوں میں عیاشی میں مصروف عمل رہتے ہیں]۔
سعودی عرب کی براہ راست مداخلت
بعدازاں، سعودی عرب نے ـ اپنی کرائے کی ملیشیاؤں کی مدد کی غرض سے ـ یمن کے خلاف بمباری شروع کی تاکہ وہ [بزعم خود] کھوئے ہوئے علاقے واپس لے سکیں۔ امریکہ بھی معلومات اور اہداف کے تعین کے میدان میں سعودی عرب کی مدد کر رہا ہے۔
منگل تک، سعودی عرب سے وابستہ [ناہم نہاد] یمنی حکومت کی افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آبنائے باب المندب میں تعینات انصاراللہ کی افواج کو محاصرے میں لے لیا ہے لیکن انصاراللہ نے باضابطہ طور پر ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے مذکورہ دعوے کی تصدیق یا تردید کئے بغیر ـ لکھا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ [مبینہ] "پیش قدمی" کس حد تک پائیدار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ