8 ستمبر 2026 - 04:54
امریکی بحری جہاز ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں + ویڈیوز

اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی بحری جہازوں کی طرف بیلسٹک میزائل داغ کر، اپنی بحری وارننگ کو عملی میدان میں ثابت کر دیا۔ ایک ایسا اقدام جس کے بارے میں اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ اس کا مقصد تہران کی دھمکی کو قابلِ یقین بنانا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پرسوں ٹی وی انٹرویو میں امریکی بحری جہاز کی طرف ایک 'خاص' بیلسٹک میزائل داغے جانے کی خبر دی؛ اور کہا کہ یہ میزائل ان کے انٹرویو سے 46 گھنٹے قبل داغا گیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ امریکی فریق ایران کی وارننگ کی سنگینی اور سنجیدگی کو عملی طور پر دیکھ سکے۔

امریکی بحری جہاز ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں

انھوں نے میزائل فائر ہونے کے بعد امریکی بحری جہاز کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا: اس امریکی جہاز پر جہنم بپا ہوگیا اور جہاز کو موقع سے بھاگنا پڑا۔

فائرنگ کے مقصد کے بارے میں میجر جنرل رضائی کی وضاحت واقعے کے تزویراتی محور کو واضح کرتی ہے؛ جیسا کہ انھوں نے کہا: 'اس لئے کہ وہ ہماری دھمکی کا یقین کریں، ہم نے میزائل فائر کیا۔'

امریکی بحری جہاز ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں

ادھر امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے بھی 14 ستمبر 1405 کو اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ سپاہ پاسداران نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک میزائل بردار ڈسٹرائر پر اپنے بیلسٹک میزائل داغے اور یوں اس نے اصل واقعے کی تصدیق کی؛ اور امریکی جنگی جہازوں پر حملے کا واقعہ، دشمن کے سرکاری بیان میں بھی ریکارڈ ہو گیا۔

امریکی بحری جہاز ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی زد میں

اس اقدام کی اہمیت، اسلحے کی صلاحیت اور اسے استعمال کرنے کے عزم کے درمیان تعلق میں نہاں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی وارننگ کو قابلِ یقین بنانے کے لئے، فائرنگ کا حکم دیا اور دکھا دیا کہ 'دباؤ ڈالنے' کا فوجی اوزار بھی بھی جواب کا موضوع اور حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha