بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پرسوں ٹی وی انٹرویو میں امریکی بحری جہاز کی طرف ایک 'خاص' بیلسٹک میزائل داغے جانے کی خبر دی؛ اور کہا کہ یہ میزائل ان کے انٹرویو سے 46 گھنٹے قبل داغا گیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ امریکی فریق ایران کی وارننگ کی سنگینی اور سنجیدگی کو عملی طور پر دیکھ سکے۔
انھوں نے میزائل فائر ہونے کے بعد امریکی بحری جہاز کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا: اس امریکی جہاز پر جہنم بپا ہوگیا اور جہاز کو موقع سے بھاگنا پڑا۔
فائرنگ کے مقصد کے بارے میں میجر جنرل رضائی کی وضاحت واقعے کے تزویراتی محور کو واضح کرتی ہے؛ جیسا کہ انھوں نے کہا: 'اس لئے کہ وہ ہماری دھمکی کا یقین کریں، ہم نے میزائل فائر کیا۔'

ادھر امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے بھی 14 ستمبر 1405 کو اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ سپاہ پاسداران نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک میزائل بردار ڈسٹرائر پر اپنے بیلسٹک میزائل داغے اور یوں اس نے اصل واقعے کی تصدیق کی؛ اور امریکی جنگی جہازوں پر حملے کا واقعہ، دشمن کے سرکاری بیان میں بھی ریکارڈ ہو گیا۔

اس اقدام کی اہمیت، اسلحے کی صلاحیت اور اسے استعمال کرنے کے عزم کے درمیان تعلق میں نہاں ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی وارننگ کو قابلِ یقین بنانے کے لئے، فائرنگ کا حکم دیا اور دکھا دیا کہ 'دباؤ ڈالنے' کا فوجی اوزار بھی بھی جواب کا موضوع اور حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ