اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں نائب صدر رہنے والی کمالہ ہیرس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکی عوام کو پٹرول، کھانے پینے کی اشیا، مکان کے کرائے، بچوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ان کی آمدنی میں اخراجات کے بڑھنے کے تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔
ہیرس نے ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی جارحیت کے مالی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام اس صورت حال سے تنگ آچکے ہیں کہ انہیں پٹرول خریدنے اور کھانے پینے کی ضروری اشیا حاصل کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔
انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کو امریکی خاندانوں پر مالی دباؤ بڑھنے کی وجہ قرار دیا اور ٹرمپ حکومت کو ’’بے رحم، بدعنوان اور نااہل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر اب اس حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انتخابات سے پہلے ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی
بی بی سی کی جانب سے شائع کردہ ’’سلور بلیٹن‘‘ کے رائے عامہ کے جائزوں کے اعداد و شمار کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت، جو ان کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز میں 50 فیصد سے کچھ زیادہ تھی، کم ہوکر تقریباً 37 فیصد رہ گئی ہے۔
فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی ریاست کے جارحانہ فضائی حملوں کے آغاز کے وقت ٹرمپ کی مقبولیت تقریباً 42 فیصد تھی، جو کچھ ہی عرصے بعد کم ہوکر 40 فیصد سے نیچے آگئی۔
ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کی معمولی اکثریت کے پیش نظر، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ڈیموکریٹک جماعت ووٹروں کی حمایت میں ہونے والی اس کمی سے فائدہ اٹھا کر کانگریس کا اختیار دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جنگ اور علاج کے بڑھتے اخراجات ریپبلکن جماعت کے لیے بوجھ بن گئے
ایران کے خلاف جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت حال نے ٹرمپ کے اس انتخابی وعدے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں کہ وہ عوام کے روزمرہ اخراجات کم کریں گے۔
فروری کے اواخر میں ٹرمپ نے فی گیلن پٹرول کی قیمت 2.30 ڈالر سے کم ہونے کا ذکر کیا تھا، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد یہ قیمت بڑھ کر تقریباً 4 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگست میں سروے میں حصہ لینے والے 63 فیصد افراد نے اس تنازع سے نمٹنے کے معاملے میں ٹرمپ کی کارکردگی کو مسترد کیا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک جماعت نے طبی بیمے کے بڑھتے اخراجات اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہوا ہے، جبکہ آئندہ انتخابات میں تارکینِ وطن کا معاملہ اب بھی دونوں جماعتوں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔
آپ کا تبصرہ