بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عالمی مالیاتی نظام، ایران اور امریکہ کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ایک بےمثال زلزلے کا شکار ہو گیا ہے۔ پیٹرو ڈالرز، جو نصف صدی سے واشنگٹن کے مالیاتی تسلط کی بنیاد بنے رہے تھے، اب امریکی خزانے میں واپس آنے کا راستہ بھول چکے ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کے مرکزی بینکوں نے ایران پر 28 فروری کے حملے کے آغاز سے ہی امریکی خزانے کے بانڈز فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہؤا ہے۔
نیویارک فیڈرل ریزرو بینک کے اثاثے 82 ارب ڈالر کی کمی کے ساتھ 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو 2012 کے بعد سب سے نچلی سطح ہے۔
اسی اثناء میں، 10 سالہ بانڈز کی پیداوار 3.9 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد سے اوپر جا پہنچی ہے، جو موجودہ بحران میں سرمایہ کاروں کے رویے میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس وسیع فروخت کا طریقہ کار دوہرا ہے: ایک طرف، ترکی، بھارت اور تھائی لینڈ جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں، تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے اور ان کی اپنی قومی کرنسی کے کمزور ہونے کے باعث، وہ اپنی کرنسی کی حمایت کے لئے خزانے کے بانڈز فروخت کرنے اور ڈالر حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف، خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک، آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے، تیل برآمد کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے ہیں؛ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور عراق نے مارچ میں مجموعی طور پر اپنی پیداوار میں کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ کی کمی کر دی، اور متبادل راستے بھی ایران کے حملوں کی زد میں ہیں۔
قطر نے بھی اپنی مائع قدرتی گیس کی برآمدات پر فورس میجر کلاز عائد کرنے کا اعلان کیا
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مرکزی بینک خزانے کے بانڈز فروخت کر رہے ہیں؛ مارچ 2020 میں کورونا (COVID-19) کے بحران میں 109 ارب ڈالر کی فروخت کا ریکارڈ قائم ہؤا تھا، لیکن وہ بحران عارضی تھا اور فیڈرل ریزرو کی کارروائی کے بعد سکون واپس آ گیا۔
یوکرین پر روس حملہ، سلیکون ویلی بینک کا بحران (Silicon Valley Bank)، اور حماس کا 7 اکتوبر کا حملہ؛ ان سب نے خزانے کے بانڈز کی طرف سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا دیا، لیکن ایران کی جنگ مختلف ہے۔
امریکہ خود ایک جنگ میں الجھا ہؤا ہے جس نے تیل کا صدمہ پیدا کیا، خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر دباؤ ڈالا، اور سرمایہ کاروں کے لئے بجٹ سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
قابلِ توجہ نکتہ طویل مدتی ساختی تبدیلی ہے جسے اس جنگ نے تیز کر دیا ہے۔ خزانے کے بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حصہ 2010 کی دہائی کے اوائل کے نصف سے کم ہو کر تقریباً 32 فیصد رہ گیا ہے، مرکزی بینک 2025 کے اوائل سے خالص فروخت کنندہ بن گئے ہیں، اور 1996 کے بعد سے، پہلی بار دنیا کے مرکزی بینکوں کے پاس امریکی بانڈز کے مقابلے میں زیادہ سونا موجود ہے۔
قطر سمیت خلیج فارس کے ممالک کے ایک اہلکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ خطے کی کئی بڑی معیشتیں امریکہ سمیت اپنی سرمایہ کاری کی وابستگیوں پر فورس میجر (Force Majeure Clause) کی شق عائد کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
سنہ 1974 میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر(Henry Kissinger) کا تاریخی معاہدہ - تیل کی ڈالرائزیشن بمقابلہ سلامتی کی ضمانت ـ جو سرد جنگ، خلیج فارس کی جنگوں اور 2008 کے مالیاتی بحران سے بحفاظت گذرا تھا، اب ایران کی جنگ کے سامنے جانبر نہ ہو سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ