سنہ 1974 میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے ساتھ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر(Henry Kissinger) کا تاریخی معاہدہ - تیل کی ڈالرائزیشن بمقابلہ سلامتی کی ضمانت ـ جو سرد جنگ، خلیج فارس کی جنگوں اور 2008 کے مالیاتی بحران سے بحفاظت گذرا تھا، اب ایران کی جنگ کے سامنے جانبر نہ ہو سکا۔
ہنری کسنجر نے اپنی کتاب " Leadership: Six Studies in World Strategy"، اکتوبر سنہ 1973ع کی عرب - اسرائیل جنگ کے بعد حافظ اسد کے ساتھ اپنی گفتگو کا ایک واقعہ نقل کیا ہے جو بہت اہم اور سبق آموز ہے۔
بلاشبہ امن کا نوبل انعام 'انسان دوستی کی علامت' کا درجہ کھو چکا ہے اور اب بالادستی جتانے والی مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ، کے ہاتھ میں ایک 'نرم اوزار (Soft tool) بن گیا ہے۔ اب یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس انعام کی عطائیگی، منظم (Systematic) انداز سے مغرب کے غیر متحد ممالک کے اپوزیشن راہنماؤں کو دیا جاتا ہے چنانجہ اس کا مقصد امن کا عمل آگے بڑھانے کے لئے نہیں ہے بلکہ [۔۔۔]