بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || تقریباً دو دہائیوں تک، شمالی عراق میں مسلح علیحدگی پسند مراکز کو بیرونی قوتوں کے ہاتھ میں ایران کی مغربی سرحدوں کے خلاف ایک کھیل کے پتے کے مترادف، برقرار رکھا گیا تھا۔ علاقائی تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال نے ایران کی مسلح افواج کو ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا کہ اس بار میدانی طاقت کے سہارے اس دیرینہ مسئلے کو حل کر دیں، اور ساتھ ہی پڑوس میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی چیلنج کریں۔
عراق سے امریکہ کا انخلا؛ ایران کے حملوں کے خلاف پیٹریاٹ دفاع کی ناکامی
مغربی سرحدوں کو علیحدگی پسند گروہوں سے پاک کرنے کے ساتھ ہی، ایران کی حکمت عملی کا دوسرا محور عراقی سرزمین پر امریکی اڈوں کو براہ راست نشانہ بنانے پر مرکوز تھا۔
اس میدانی دباؤ کا عروج جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کی جانب سے ایک خصوصی آپریشن کے دوران رونما ہؤا۔ ایرانی پائلٹوں نے پیٹریاٹ دفاعی پرتوں اور جدید میزائل شکن نظام (C-RAM) کی فضا میں نفوذ کرتے ہوئے شمالی عراق میں امریکی ڈیلٹا فورس کے اسپیشل فورسز کے اڈے کو بمباریوں کا نشانہ بنایا۔
امریکہ کا، عراق سے مکمل [فوجی] انخلا کا فیصلہ
ان حملوں کے تسلسل نے امریکی فوجیوں کے لئے باقی ماندہ اڈوں کی سلامتی کو ایک دشوار مسئلہ بنا دیا اور بالآخر واشنگٹن کو ایک فیصلہ کن اقدام پر مجبور کر دیا: عراق سے مکمل انخلا۔
امریکی وزیر جنگ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا 30 ستمبر 2026 تک حتمی ہو جائے گا۔ عراق کے وزیر اعظم نے بھی وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ ستمبر کے آخر تک ـ عراق میں ـ امریکی فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
میدانی اطلاعات کے مطابق اربیل اڈے سے پیٹریاٹ دفاعی سسٹم منتقل کئے جا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن محض ایک سیاسی وعدے سے زیادہ، عملی طور پر اپنا کاٹھ کَباڑ اٹھانے کی کارروائی پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
خلاصہ
علیحدگی پسند مراکز کا خاتمہ اور امریکی فوجیوں کو عراق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا؛ یہ دراصل ایک واحد فوجی پیشرفت کے دو رخ ہیں جو حالیہ جھڑپوں کے سائے میں انجام کو پہنچے۔
ایران نے ایک طرف سے سرحدی خطرات کو بے اثر کرکے اس خطے میں اپنی سلامتی کو مستحکم کیا اور دوسری طرف سے، امریکہ کو پسپائی پر مجبور کرکے، اپنی سرحدوں سے متصل، امریکہ کے اہم ترین اثر و رسوخ اور آپریشنل امکان کو ختم کر دیا۔
یہ حکمت عملی ـ جو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی ذہانت اور مسلسل کوششوں کا ثمرہ تھی، کامیاب ہو گئی اور واضح طور پر ثابت ہؤا کہ ایک منصوبہ بند فوجی مہم خطے کے سیکورٹی قوانین کو ایران کے حق میں بدل سکتی ہے۔ درحقیقت، ایران نے نہ صرف براہ راست حملے کے سامنے مزاحمت کی، بلکہ جنگ کے بحران سے اپنی دیرینہ سیکورٹی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لئے ایک بڑا سرمایہ بھی حاصل کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ