27 اگست 2026 - 03:21
میڈیا آج کے میدان جنگ کا ایک بنیادی ستون ہے، بریگیڈيئر جنرل محبی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے ـ کہ آج کی جنگ صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، ـ کہا: میڈیا جنگ کے اہم ترین میدانوں میں سے ایک ہے اور ابلاغیات سے منسلک افراد معاشرے کے ادراک، عقیدے اور ارادے پر اثر انداز ہو کر جنگ کے مقدرات کے تعین میں فوجی میدان کے ہم پلہ کردار ادا کرتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ نیوز کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسدار حسین محبی نے اصفہان کے پریس کمپلیکس میں منعقدہ اخباری نشست میں انقلاب اسلامی، دفاع مقدس اور حالیہ جنگ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا: آج کی جنگیں مرکب نوعیت کی حامل جنگیں (Hybrid warfare) ہیں اور فوجی، سیکیورٹی، معاشی، ثقافتی اور سماجی میدانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی اس جنگ کے اہم ترین میدانوں میں سے ایک ہے۔

انھوں نے عوامی رائے کی تشکیل میں میڈیا کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: آج ذرائع ابلاغ محض خبر پہنچانے اور واقعات بیان کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ جنگی میکانزم کے اہم اجزاء میں سے ایک بن چکے ہیں؛ البتہ فرق یہ ہے کہ میڈيا کا میدانِ جنگ 'انسانی ذہن اور ادراک' ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے مزید کہا: صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو اس میدان کے مجاہدین اور افسران سمجھنا چاہئے؛ کیونکہ وہ صحیح رپورٹنگ کے ذریعے معاشرے کے ارادے اور امید کو تقویت دے سکتے ہیں؛ اور ہاں اس کے برعکس، وہ غلط بیانیوں یا بے عملیوں کے ذریعے حوصلے پست کرنے اور شکست کے احساس کو جنم دینے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

حالیہ جنگ؛ فوجی میدان سے بہت آگے

محبی نے حالیہ جنگ کے پہلوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دشمن اس جنگ میں محض ملک کی فوجی صلاحیت کو نشانہ بنانے کا خواہاں نہیں تھا، بلکہ وہ فوجی، سیکیورٹی، معاشی، ثقافتی، سماجی اور ابلاغیات و صحافت کے شعبوں میں بیک وقت سرگرم تھا۔۔ اسی وجہ سے حالیہ جنگ کو محض ایک فوجی تصادم نہیں سمجھا جا سکتا؛ بلکہ اس کا تجزیہ مرکب اور کثیر جہتی جنگ کے آئینے میں ہونا چاہئے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے دشمن سے منسوب اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دشمن متعدد اہداف کے حصول کا خواہاں تھا، جن میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا، جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا، ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور سیاسی تبدیلیاں لانا شامل تھا؛ لیکن وہ یہ اہداف حاصل کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔

محبی نے زور دیا: میدان میں جو کچھ ہوا اسے بلا مبالغہ اور حقائق کی بنیاد پر عوام کے لئے واضح کیا جانا چاہئے؛ کیونکہ معاشرے کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ملک کن حالات سے گذرا، کیا قربانیاں دی گئیں اور کیا کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

تکنیکی جنگ اور جنگ کی نوعیت میں تبدیلی

انھوں نے کہا حالیہ جنگ "ٹیکنالوجی کی بنیاد پر" ہوئی اور یہ اس کی دوسری اہم خصوصیت تھی؛ اس جنگ میں معلومات کو جمع کرنے، پروسیس کرنے اور منتقل کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی کا ایک مجموعہ بشمول مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر سسٹمز، سیٹلائٹس، ڈرونز، ریڈارز اور مختلف سینسرز کو بروئے کار لیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا: ٹیکنالوجی کے فناوری نیٹ ورک کے استعمال نے ہدف کی شناخت سے آپریشن پر عمل درآمد تک کے وقت کو نمایاں طور پر کم کر دیا تھا اور یہ عیاں ہؤا کہ ہم نے جنگ کو ایک نئی شکل دی ہے۔

محبی نے ایران کی تکنیکی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ نے بھی اس میدان میں اپنی تکنیکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا اور میزائل آلات اور ٹیکنالوجیز کو ترقی دے کر اور دشمن کے حساس ٹھکانوں کی شساخت کرکے کمانڈ اور سپورٹ نیٹ ورک کے حصوں مؤثر طور نشانہ بنایا، اور اس کے آپریشنل ڈھانچے کو معطل کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha