بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار دی ہل (The Hill) ) نے ایران اور امریکہ کی جنگ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ صرف چار سے پانچ ہفتے جاری رہے گی، لیکن اب یہ تنازع چھٹے مہینے میں داخل ہونے کے قریب ہے اور اس کے خاتمے کے لئے ابھی تک کوئی واضح حل نظر نہیں آتا۔
ہل نے امریکی میرین کور کے ریٹائرڈ کرنل "رے گربر" (Ray Gerber) کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران بدستور واشنگٹن کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سابق فوجی اہلکار کے مطابق، امریکی فضائی حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کمزور نہیں کر سکے۔
اس رپورٹ میں امریکی میزائل ڈیفنس سسٹمز کے ذخائر میں کمی کو بھی ٹرمپ انتظامیہ کو درپیش سامنے ایک اور چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک نئے جائزے کے مطابق، جنگ کے آغاز کے مقابلے میں امریکہ کے "پیٹریاٹ" اور "تھاڈ" انٹرسیپٹر میزائلوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کو میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ خطرہ مول لینا پڑے گا۔
دی ہل نے مزید کوئینیپیاک یونیورسٹی (Quinnipiac University) کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح امکان نہیں نظر نہیں آتا۔
اس سروے کے مطابق، 55 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کم از کم ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہے گی۔
علاوہ ازیں 60 فیصد امریکی ووٹرز ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف یں اور 70 فیصد سے زیادہ امریکی زمینی فوج ایران بھیجنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ