بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
تیسری قسط:
▬ لیکن اگلے دن، فوجی مشیروں اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ ملاقات کے بعد، ٹرمپ کا فیصلہ کسی بھی چیز کو "تباہ" کرنے میں تبدیل نہیں ہؤا۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکی فوج کے گولہ بارود (فضائی دفاعی نظام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل) تیزی سے کم ہو رہے ہيں اور امریکہ کے تیل کے ذخائر انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی سینیچر کی اشاعت میں اپنی دہائیوں پر محیط نرم اور پنبئی (cottony) لب و لہجے میں رپورٹ دی کہ: "صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے کو تیز کرنے کے اپنے منصوبوں کو، کم از کم فی الحال، روک دیا ہے اور ایک خاص قسم کی تشویش پائی جاتی ہے کہ جنگ میں اضافہ مغربی ایشیا میں پینٹاگون کے پہلے سے کم ہوتے ہونے والے پیٹریاٹ میزائل شکن میزائلوں اور دیگر فضائی-دفاعی گولہ بارود کے ذخائر کو خطرناک حد تک ختم کر سکتا ہے۔" [امریکی] حکام کے مطابق، دشمن کے میزائل روکنے والے میزائلوں کے ذخائر میں شدید کمی کا خطرہ ان متعدد عوامل میں سے ایک ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کی طرف واپسی کو ایک انتہائی پرخطر اقدام بنا دیا ہے: ٹرمپ اور اس کے سینئر مشیر مغربی ایشیا میں جنگ کے پھیلاؤ، کلیدی خلیجی اتحادیوں کی تنہائی (جو ایران کے حملوں کے سامنے کمزور اور زدپذیر ہیں)، عالمی معاشی مخمصے، اور توانائی اور پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے بحرانوں سے پریشان و ہراساں ہیں۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جو مجھے نیویارک ٹائمز کے علاوہ دوسرے امریکی اخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہے۔
جو میں پڑھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ پینٹاگون کے سینئر اہلکار (جن کے سر بظاہر ان کے کندھوں پر جچتے ہیں، البتہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے سوا) سب چیخ رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کو ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنا چاہئے؛ کیونکہ امریکی فوج، خود کو، خطرناک حد تک اپنی طاقت و صلاحیت اور برداشت سے باہر کی صورتحال میں گھرا ہؤا پا رہی ہے۔
▬ (مذکورہ بالا) باراک راوید نے ایکسیوس میں رپورٹ دی کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ بریڈ کوپر (Brad Cooper) نے وائٹ ہاؤس کو بتایا ہے کہ "بمباری مہم کو روکنے کا وقت آن پہنچا ہے"، "کیونکہ یہ مہم اپنی کارکردگی کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔"
یہ ایک بڑا لمحہ ہے۔ واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹرمپ اچانک سمجھ گیا ہے کہ امریکی طاقت لامحدود نہیں ہے اور یہ معاملہ اس کو شدید مہنگا پڑا ہے۔
یہ دونوں لحاظوں سے درست ہے، لیکن یہ صرف آدھی کہانی ہے۔ یہ آخری دور کا "کی مطلق العنان سلطنت" ہے جو اپنی صلاحیت کی آخری حد سے ٹکرا گیا ہے اور یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہے کہ "اس نئی حقیقت کی اہمیت 'عالمی تاریخی' پیمانے پر ہے"۔
محدودیت اور مجبوری کے سلسلے میں، ریاستہائے متحدہ کو ـ تیل کی قیمت کو کنٹرول کرنے اور موجودہ سپلائی میں آنے والے بحران کو مؤخر کرنے کے لئے اپنے اسٹراٹیجک ذخائر سے تیل نکالنے پر ـ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، لیکن یہ "پانی نکلنے والے سے ٹوٹتے ہوئے پشتے کو اگلی دبا کر بند کرنے (Plugging a dike with a finger)" کی حکمت عملی اب اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں اس کا دفاع ممکن نہیں ہے [اور مزید اس کی وکالت نہیں کی جا سکتی]۔
مورخہ 28 فروری 2026ع کو ایران پر امریکی - اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک، امریکی تزویراتی ذخیرے سے نکالے جانے والے تیل کی مقدار 172 ملین بیرل تک پہنچ گئی ہے اور یوں یہ ذخیرہ تقریباً 300 ملین بیرل تک کم ہو گیا ہے؛ اور قاعدے کے مطابق ان ذخائر کم از کم 250 ملین تک ہونا چاہئے۔ یعنی اگر 50 ملین مزید تیل نکالا جائے تو نصاب پورا ہوگا اور بحران کا آغاز ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حامد حاجی حیدری، فیکلٹی ممبر، تہران یونیورسٹی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ