6 جنوری 2026 - 21:22
الحاج قاسم نے غزہ کو مقاومت کی صف اول میں تبدیل کیا، مگر کیسے؟

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا: "اس مرد (شہید سلیمانی) نے فلسطینیوں کے ہاتھ بھر دیئے؛ انھوں نے ایسا کام کیا کہ ایک چھوٹا سا علاقہ، ـ غزہ کی پٹی جیسی ایک بالشت برابر جگہ، ـ بلند بانگ دعوے کرنے والی صہیونی ریاست کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے اور ایسی مصیبت پر نازل کرتا ہے کہ وہ 48 گھنٹے کے اندر کہہ دیتی ہے "کہ آپ آئیں اور جنگ بندی کریں۔" یہ سب الحاج قاسم سلیمانی نے کیا؛ ان کے ہاتھوں کو بھر دیا؛ انھوں نے ایسا کام کیا کہ وہ [غزاوی] اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکیں، مزاحمت کر سکیں۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے فلسطینی بھائیوں نے مجھ سے بار بار کہا ہے۔ یقیناً میں جانتا تھا لیکن وہ بھی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 12 نومبر 2018 کی رات خان یونس کی فضاؤں میں خطرے کی بو رچی بسی تھی۔ صیہونی ریاست کے ماہرترین کمانڈوز کا ایک گروپ ـ جسے "سایرت متکالی" (Sayeret Matkal) کے نام سے جانا جاتا ہے، خواتین کے بھیس میں، نقاب پہن کر، غزہ کے قلب تک پہنچ گیا تھا۔ ان کا مشن ایک جاسوسی فلم کی طرح تھا: سننے کے آلات نصب کرنا اور حماس کے ایک اہم کمانڈر کو اغوا کرنا۔ لیکن اس رات غزہ مزید وہ نہیں تھا جس پر آدھے گھنٹے میں قبضہ کیا جا سکتا۔ نورالدین برکہ اور اس کے آدمیوں کی تیزبیں نگاہیں انجانے سایوں کو دیکھ رہی تھیں۔

دشمن کی ایک غلطی کی وجہ سے مہم پوری طرح فاش ہو گئی اور گھمسان کی جھڑپ شروع ہو گئی۔ درانداز گروپ کا کمانڈر مارا گیا اور صہیونی آپریشن بھاری شکست میں بدل گیا۔ دشمن کے ہیلی کاپٹر زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لئے آ گئے؛ لیکن یہ ایک تزویراتی پسپائی نہیں بلکہ ایک شرمناک فرار تھا۔ یہ واقعہ صرف سرحدی تنازعہ نہیں تھا۔ یہ ایک نئی مساوات (اور نئے فارمولے) کی تخلیق کا کا مظاہرہ تھا۔

ان دو دنوں کی لڑائی کے دوران غزہ کی مقاومت نے صہیونی ٹھکانوں پر مختلف نوعیت کے تقریباً ایک ہزار میزائل داغے۔ ان میں سے کچھ میزائل ایسے تھے جو حساس مراکز اور غزہ کے ارد گرد صہیونی افواج کی تعیناتی کے مراکز پر فائر کئے گئے تھے۔ داغے جانے والے میزائلوں کی بڑی تعداد، نیز مقاومت کی نئی میزائل صلاحیتوں کی نقاب کشائی، نیز مختلف صہیونی پوزیشنوں کے خلاف، ان کے تیز رفتار اور منصوبہ بند ردعمل نے اسرائیل کو جنگ روکنے پر مجبور کردیا۔

لیکن یہ نئی طاقت آئی کہاں سے؟

اس کا جواب اس شخصیت کی حکمت عملی میں تلاش کرنا ہوگا جو فلسطین کو جغرافیہ نہیں بلکہ عقیدہ سمجھتے تھے؛ ایسا عقیدہ جس کی جڑیں قرآن میں پیوست ہیں۔

ہاں، اس نے قدس کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی بنیاد پر کئی بار کہا تھا، "مجھے قدس کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہے؛ کیونکہ قدس کا ایک خدا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔" یہ جملہ ان کی روح کی کنجی تھا؛ ایک ایسا عقیدہ جس نے اسے ہتھیاروں سے ماوراء طاقت سے جوڑ دیا۔

لیکن شہید الحاج قاسم سلیمانی نے صرف یقین اور عقیدے پر اکتفا نہیں کیا۔ وہ ایک کھلے اور نڈر ذہن کے مالک تزوبر کار (Strategist اور حکمت عملیوں کے تخلیق کار) تھے۔ وہ مردِ میدان تھے اور اچھی طرح جانتا تھے کہ کہاں سے آغاز کرنا ہے۔

فوجی منصوبوں میں، غزہ کی پٹی ایک محصور نقطہ تھا: زمین، سمندر اور فضا پر دشمن کا قبضہ۔ لیکن الحاج قاسم کو یقین تھا کہ محاصرہ توڑا جا سکتا ہے۔ انھوں نے شہید عماد مغنیہ اور حزب اللہ اور حماس کے کمانڈروں کے ساتھ مزاحمت و مقاومت کا ایک نیٹ ورک قائم کیا۔ کمانڈ رومز میں میزائل منصوبے بنائے گئے؛ انجن سے گائیڈڈ وار ہیڈز تک۔ یہاں تک کہ ضروری ساز و سامان لانے کے لئے بھی شمالی ہواؤں کی خدمات حاصل کر لیں: غبارے جو ایک دن میں صرف ایک کلو وزن لے جاتے تھے، لیکن بعد میں 350 کلوگرام تک وزنی ساز و سامان غزہ کے آسمان تک لے جانے لگے۔ انھوں نے غزہ میں ہتھیار لانے کے لئے دوسرے راستے بھی تلاش کر لئے۔ مثال کے طور پر، جب "عوامی محاذ برائے آزآدی فلسطین" (Popular Front for the Liberation of Palestine) کے ایک کمانڈر نے مشورہ دیا کہ معمر قذافی سے، اپنے مغرب نواز رجحانات کے عروج پر بھی، RPGs کو غزہ کی پٹی تک استفادہ کیا جا سکتا  ہے، تو شہید سلیمانی نے فوراً کہا: "جاؤ اور یہی کام دو۔" وہ غزہ کے میزائل سسٹم کی تیاری اور توسیع کے لئے کوشاں تھے۔

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا:

"اس مرد (شہید سلیمانی) نے فلسطینیوں کے ہاتھ بھر دیئے؛ انھوں نے ایسا کام کیا کہ ایک چھوٹا سا علاقہ، ـ غزہ کی پٹی جیسی ایک بالشت برابر جگہ، ـ بلند بانگ دعوے کرنے والی صہیونی ریاست کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے اور ایسی مصیبت پر نازل کرتا ہے کہ وہ 48 گھنٹے کے اندر کہہ دیتی ہے "کہ آپ آئیں اور جنگ بندی کریں۔" یہ سب الحاج قاسم سلیمانی نے کیا؛ ان کے ہاتھوں کو بھر دیا؛ انھوں نے ایسا کام کیا کہ وہ [غزاوی] اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکیں، مزاحمت کر سکیں۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے فلسطینی بھائیوں نے مجھ سے بار بار کہا ہے۔ یقیناً میں جانتا تھا لیکن وہ بھی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے بھی گواہی دی۔" (خطاب بمورخہ 8 جنوری 2020ع‍)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha