2 جولائی 2026 - 14:32
بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں دیں گے، ڈاکٹر قالیباف

ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کے دورے کے موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: قانون کے مطابق، کسی بھی صورت میں ان سائٹس تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی جن پر بمباری کی گئی ہے اور نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔ کسی بھی رسائی کا تعین صرف اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے اختیار میں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ٹیلی وژن انٹرویو، درج ذیل ہے:

ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے اس انٹرویو کے دوران کہا:

- امریکہ ہمارے منجمد اثاثوں کے بارے میں کئی بار کہا: "میں ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا۔" لیکن آخر کار اسے مجبور ہونا پڑا اور یہ 12 ارب ڈالر کے اثاثے ریلیز کرائے گئے۔ میں ذاتی طور پر قطر کے دورے پر گیا۔ انصافاً اس ملک کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے مؤثر ثالثی کی۔ ہمارے 6 ارب ڈالر وہاں تھے اور مزید 6 ارب ڈالر کی ادائیگی بھی انہوں نے اپنے ذمے لئے۔

- دورہ قطر میں مذاکرات ہوئے، دستخط ہوئے، امریکہ کے نائب وزیر خزانہ اور جے ڈی وینس بھی موجود تھے، معاہدہ طے پایا اور اگلی صبح فنڈز آزاد کر دیئے گئے۔

* امامِ شہید کے خون کا بدلہ قدس کو آزاد کرکے، لیا جائے گا

- ایرانی عوام پر سکون رہیں اور اسلامی جمہوری نظام پر فخر کریں۔

- امام شہید کے خون کا بدلہ اور قدس کی آزادی جیسے اہداف طاقت سے حاصل ہونگے، کیونکہ ہمارا دشمن صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

- ہم اس موقع سے معیشت کی بہتری، ملک میں سرمایہ کاری اور مسلح افواج کی جدید کاری کے لئے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو بھی کمزور ہوگا، ذلیل ہوگا چنانچہ ایران کو طاقتور ہونا چاہئے اور آج تک بھی اس نے عوام کی ہمت سے اپنی طاقت دکھائی ہے۔

بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں دیں گے، ڈاکٹر قالیباف

- مفاہمت نامے کی شق نمبر 1 پر عملدرآمد ہو رہا ہے، ایران اور کسی حد تک لبنان میں "جنگ کا خاتمہ" مستحکم ہو رہا ہے؛

- شق نمبر 4 (ناکہ بندی کا خاتمہ) پر مکمل طور پر عملدرآمد ہو چکا ہے؛

- شق نمبر 5 (آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظام) پر عملدرآمد ہو چکا ہے؛

- شق نمبر 10 (تیل اور اس کی مصنوعات کی برآمد) پر عملدرآمد ہو چکا ہے؛ اور

- شق نمبر 11 (12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی آزادی) پر عمل ہوچکا ہے اور اگلے 12 ارب ڈالر بھی اسی تسلسل میں ریلیز ہونگے۔ لبنان سے متعلق دیگر معاملات ابھی منظوری کے مرحلے میں ہیں۔

- میں تاکید کرتا ہوں کہ امریکہ سے مذاکرات کا موضوع خصوصاً یہی 14 شقیں ہیں اور امریکہ کو اس مفاہمتی یادداشت میں کوئی اور موضوع شامل کرنا ناممکن ہے۔

* کسی صورت میں بھی بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں دیں گے

- بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کے دورے اور ان کو نشانہ بننے والی تنصیبات تک انہیں رسائی دیئے جانے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، کھلا جھوٹ ہے۔ اس سلسلے میں مجلس مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) نے قانون منظور کرلیا ہے اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔

- اس قانون کے مطابق، کسی بھی صورت میں ان سائٹس تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کو بمباری کرکے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ قانونی فریم ورک سے باہر کوئی مراعات نہیں دی جائے گی اور کسی بھی رسائی کا تعین صرف اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے اختیار میں ہے۔

- فی الحال سابقہ وعدوں کے مطابق، صرف 2 مقامات، یعنی بوشہر اور تہران ری ایکٹرز،  تک رسائی کی اجازت دی جاتی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی ان ہی وعدوں کا پابند ہے۔ ایجنسی بھی اسی فریم ورک کے اندر اور معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha