اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے رکنِ پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ حالیہ معاہدے کی مخالفت کو صرف سیاسی اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ مؤقف لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ سے متعلق ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لبنانی شہریوں کی آواز سنے جو اس معاہدے کے مخالف ہیں اور عوامی خواہشات سے دوری اختیار نہ کرے۔
حسن فضل اللہ نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اسرائیلی حکومت کو ایسے مراعات دی گئی ہیں جن کے نتیجے میں قبضے کو قانونی جواز ملتا ہے، جنوبی علاقوں کے رہائشیوں کی اپنے گھروں کو واپسی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور اسرائیلی حکومت کے جرائم کے خلاف قانونی کارروائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے یہی راستہ اختیار کیے رکھا تو وہ عوام کی اکثریت کے مقابل کھڑی ہو جائے گی، جس کے سیاسی نتائج اس کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔
لبنانی رکنِ پارلیمان نے قومی قوتوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کو کبھی بھی اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے نفاذ کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی استقامت، شہداء کی قربانیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کے باعث جنوبی لبنان سے قابض افواج کے انخلا کے لیے سازگار حالات موجود ہیں، اور حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی مفادات کا دفاع کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ