2 جولائی 2026 - 16:39
کریم الراسی: مزاحمت ہی لبنان کے حقوق کی ضامن ہے، عوام کی اکثریت فریم ورک معاہدے کے خلاف ہے

لبنان کی تحریک المردہ کے ایک سینئر رہنما نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مجوزہ "فریم ورک معاہدے" پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے کسی بھی معاہدے کی منظوری پارلیمان سے لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہی لبنان کے حقوق اور خودمختاری کی حقیقی ضامن ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی تحریک المردہ کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور سابق رکنِ پارلیمان کریم الراسی نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مجوزہ "فریم ورک معاہدے" پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی نوعیت کے اہم معاملات پر کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف پارلیمان کی منظوری سے ہونے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوام کی نمائندہ ہے، اس لیے قومی فیصلوں کا اختیار بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عوامی اور قانونی حمایت کے بغیر ہونے والا کوئی بھی معاہدہ جائز حیثیت نہیں رکھتا۔

کریم الراسی نے کہا کہ جب اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 اور عرب ممالک کے مختلف اقدامات پہلے سے موجود ہیں تو پھر نئے معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ انہوں نے امریکہ کو غیر جانبدار ثالث ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے بین الاقوامی قوانین اور اپنے وعدوں کی پابندی نہیں کرتی، اس لیے واشنگٹن کے دباؤ میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ لبنان کے حقوق کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی مقبوضہ سرزمین کی آزادی اور ملکی خودمختاری کے تحفظ میں صرف مزاحمت نے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول جنوبی لبنان کی آزادی اور 33 روزہ جنگ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ لبنانی عوام کے حقوق صرف قومی طاقت اور مزاحمت کے ذریعے ہی محفوظ بنائے جا سکتے ہیں۔

سابق لبنانی رکنِ پارلیمان نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض ذرائع ابلاغ اس معاہدے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن لبنان کی اکثریت ایسے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ملکی خودمختاری کو کمزور کرے یا قومی حقوق سے دستبرداری کا سبب بنے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha