2 جولائی 2026 - 16:04
لبنانی ماہرِ قانون: اسرائیلی حکومت کے ساتھ معاہدہ غیر قانونی ہے، جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے گا

بین الاقوامی قانون کی لبنانی محقق اور غزہ کا محاصرہ توڑنے والے فلوٹیلا مشن کی رکن نے لبنان اور اسرائیلی حکومت کے درمیان حالیہ معاہدے کو غیر قانونی اور لبنان کے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بین الاقوامی انسانی حقوق کی ماہر اور محقق ڈاکٹر لینا الطبال نے نیوز ویب سائٹ العہد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حکومت کے جرائم بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے لبنان اور اسرائیلی حکومت کے درمیان حالیہ معاہدے کو "باطل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کے آئین سے متصادم ہے اور امتِ مسلمہ کے آزاد ضمیر رکھنے والے افراد کی نظر میں اس کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔

ڈاکٹر الطبال نے کہا کہ اسرائیلی حکام اپنے اقدامات کی قانونی اور فوجداری ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ ان کے بقول، شہر طرابلس سے لبنان میں اسرائیلی حکومت کے تمام مبینہ جرائم کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف ایک دن ضرور قائم ہوگا اور آزادیِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے خون کو ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

لبنانی محقق نے اس معاہدے کی سیاسی ذمہ داری لبنان کی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے کوئی اختیار دیے بغیر حکومت نے پوری قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل معیار لبنانی عوام کی خواہش، خودمختاری اور ان لوگوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف ملک کی عزت، وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha