بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ایک 'رچرڈ نامی' غیرملکی صارف نے، سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے امریکی وفد سے ہاتھ ملانے اور تصویر اتروانے سے انکار اور فاکس نیوز کے ساتھ گفتگو میں ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں کے مذاکرات میں آنے کے بعد، مذاکرات چھوڑ کر جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا:
آیئے ایماندار رہیں، سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی کارکردگی نفسیات اور سفارتی اثرانگیزی کے لحاظ سے ایک ماسٹرکلاس تھی۔
انہوں نے اپنی شرائط حاصل کر لیں، امریکیوں کو منتظر رکھا، ہاتھ ملانے کی علامتی حرکت سے بھی انکار کیا، اپنے مطالبات پر مرکوز رہے، اور جیسے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے معمول کی دھمکیاں گفتگو کا حصہ بنیں، وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

ایسا کرتے وقت انہوں نے امریکی بےچینی اور کمزوری کو بےنقاب کرتے ہوئے [ان کے] خوداعتمادی کا اندازہ لگایا۔
جو بات نمایاں ہے وہ فارسیوں کی علامتیت (یا اشاریت Symbolism) اور حکمتِ عملی (اور داؤ پیچ) کی گہری سمجھ ہے۔
ہر حرکت حساب کتاب کے مطابق ہوتی ہے، ہر اشارہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے، گویا وہ شطرنج کے میچ میں کئی قدم آگے ہیں جبکہ ان کے ہم منصب اپنی رفتار برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
نتیجہ ایک حیرت انگیز تضاد ہے: ایران پر سکون، منضبط ہے اور اپنے اوپر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ ریاستہائے متحدہ ردِعمل دکھانے والا ینے والا اور مسابقت میں پیچھے ہے۔
اس حقیقت کا انکار کرنا تیزی سے مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ میں سب سے مؤثر اور زبردست طاقت بن کر ابھرا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ