بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بادی النظر میں، ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ عرب ممالک کا تعاون بنیادی طور پر تجارتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن، سیکیورٹی اور دفاعی مطالعات کے نقطہ نظر سے، اس رجحان کی اہمیت کہیں اور ہے۔ SpaceX، Starlink اور xAI کمپنیوں میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کا ایک اہم حصہ دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجیز جو اگرچہ تجارتی مقاصد کے ساتھ تیار کی گئی ہیں، لیکن ان کے استعمال کی اصل صلاحیت فوجی، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی شعبوں میں بروئے کار آتی ہے۔
حصۂ دوئم:
سعودی عرب؛ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، مقاصد: فوجی-سیکیورٹی
سعودی عرب مسک کے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام میں سب سے اہم عرب کھلاڑی ہے۔ کمپنی "ہیومین Humain" کی xAI میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاض دنیا کی انتہائی حساس ٹیکنالوجی کے شعبوں میں موجودگی کا خواہاں ہے۔
فوجی نقطہ نظر سے، xAI کی اہمیت مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ترقی، ڈیٹا پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے اور عظیم کمپیوٹیشنل صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ یہ صلاحیتیں معلومات کے تجزیئے، سیکیورٹی پیٹرن کی شناخت، سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ، سائبر سیکیورٹی، اور آپریشنل ڈیٹا کی بڑی مقدار کے انتظام جیسے شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
سعودی عرب جیسا ملک ملک کے لئے ـ جو مقامی فوجی صنعتوں اور ڈیجیٹل کمانڈ سسٹمز کو مقامیانے کی کوشش کر رہا ہے، ـ اس طرح کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی نمایاں اسٹراٹیجک اہمیت رکھتی ہے۔
سعودی عرب درحقیقت مصنوعات کی خریداری کے بجائے، ٹیکنالوجی کے اس ماحولیاتی نظام میں داخل ہو رہا ہے جو مستقبل میں ممالک کی فوجی طاقت کے بنیادی ڈھانچے کا ایک حصہ تشکیل دے گا۔
دفاعی نقطہ نظر سے، کمپنی HUMAIN سعودی عرب کے لئے مسک کے ماحولیاتی نظام میں فوجی مقاصد کے لئے پروسیسنگ صلاحیت، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور ڈیٹا کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اس کے بعد، اسٹراٹیجک معاون کے طور پر سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) ہے۔ علاوہ ازیں، آرامکو کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اس کمپنی کا xAI کے ساتھ براہِ راست آپریشنل معاہدہ نہیں ہے، لیکن 2025 سے HUMAIN کے حصص کے ڈھانچے میں داخل ہو کر، یہ مصنوعی ذہانت کے بڑے سعودی منصوبوں کو اسی کمپنی کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔
امارات؛ خلائی معیشت اور قومی سلامتی کے درمیان تعلق
امارات نے حالیہ برسوں میں خلائی، سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں وسیع سرمایہ کاری کی ہے۔ اگرچہ ابوظہبی نے اب تک xAI میں اپنی سرمایہ کاری کو سعودی عرب کی سطح پر آشکار نہیں کیا ہے، لیکن اس ملک کی ٹیکنالوجی کی ترقی کا عمل واضح کرتا ہے کہ اگر سعودی عرب سے زیادہ نہیں، تو کم از کم اُتنا ہی وہ بھی سیکیورٹی اور خلائی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔
امارات کے خلائی اور سیٹلائٹ پروگراموں کا استعمال محض سائنسی یا اقتصادی نہیں ہے۔ سیٹلائٹ آج کل جاسوسی، سرحدوں کی نگرانی، بحران کے انتظام، سمندری نگرانی اور اہم انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے، SpaceX اور دیگر معروف خلائی کمپنیوں سے متعلق ٹیکنالوجیز سے امارات کی قربت کو انفارمیشن ایج میں اس کی طرف کی قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
مسک کے ساتھ معاہدہ کرنے والی سب سے اہم اماراتی کمپنیاں درج ذیل ہیں:
• G42 کمپنی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر میں سب سے اہم کھلاڑی۔
• MGX، AI کمپنی کے شعبے میں اسٹراٹیجک سرمایہ کاری کا بازو۔
• Space42 کمپنی، امارات کی سب سے اہم خلائی اور سیٹلائٹ کمپنی۔
• Cleveland Clinic Abu Dhabi / Neuralink نامی کمپنیاں، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ