2 جنوری 2026 - 17:24
صہیونی وزیر کا متنازع بیان: غزہ اور مغربی کنارہ اسرائیل کا حصہ ہیں، فلسطینی عارضی مہمان ہیں

صہیونی حکومت کے وزیرِ ثقافت میکی زوہار نے غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے فلسطینیوں کو عارضی مہمان قرار دے دیا، جس پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل نے آج جمعہ کو صہیونی حکومت کے وزیرِ ثقافت میکی زوہار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ایک محدود مدت کے لیے بطور مہمان وہاں رہنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم غزہ اسرائیل کا حصہ ہے۔

میکی زوہار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی کنارہ بھی اسرائیل کا ہے اور اسرائیل اپنی ہی سرزمین پر قابض نہیں ہے۔

اس سے قبل صہیونی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی اینکر اور سابق دائیں بازو کے رکن شارون گال کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’’عظیم اسرائیل‘‘ کے خواب سے گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں اور اسے ایک تاریخی اور روحانی مشن سمجھتے ہیں، جس میں یہودی قوم کی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ نسلیں شریک ہیں اور ہر نسل یہ مشن اگلی نسل کو منتقل کرتی ہے۔

ان بیانات پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ’’عظیم اسرائیل‘‘ کا تصور صہیونی ریاست کے قیام کے وقت سے ہی اس کے رہنماؤں اور نظریہ سازوں کی زبان پر رہا ہے، تاہم اب یہ نظریہ کھل کر صہیونی سیاست دانوں، وزرا اور خود وزیرِاعظم کی جانب سے بیان کیا جا رہا ہے۔

چند روز قبل اسرائیلی سیاست دان دانیئلا ویس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو دریائے فرات سے دریائے نیل تک کے تمام علاقوں پر قبضہ کرنا چاہیے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فلسطین ایک من گھڑت تصور ہے اور یہ کہ یہ سرزمین صرف یہودی قوم کی ہے، جبکہ فلسطینی عرب ہیں جو ان زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جنہیں یہودیوں نے مبینہ طور پر ’’جنت‘‘ میں تبدیل کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صہیونی حکومت کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام پر بھی خاص طور پر عرب ممالک کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ مبصرین کے مطابق خطے کے ممالک صہیونی حکومت کی مداخلت پسندانہ اور تباہ کن پالیسیوں کو ’’عظیم اسرائیل‘‘ کے منصوبے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جس کا بڑا حصہ عرب علاقوں پر قبضے کے ذریعے عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha