30 مئی 2026 - 16:56
حصۂ دوئم | ٹرمپ کی 'ابراہیم معاہدوں' کی توسیع مسلط کرنے میں ناکامی

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کاری کی غرض سے پیش کردہ نام نہاد 'ابراہیم معاہدوں'  کو دوسرے ممالک پر مسلط کرنے اور اسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے منسلک کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ٹرمپی خواہش ان ممالک کی مخالفت کی سخت دیوار سے ٹکرا گئی۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے اس منصوبے کی کمزوریوں کو پہلے سے بھی زیادہ، بے نقاب کر دیا، جبکہ واشنگٹن برسوں سے پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل ہو رہی ہے، اسرائیل کو خطے میں ضم کیا جائے گا اور معمول کاری کا عمل ان ہی خواہشات کی تکمیل کی تمہید ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی کانگریس کے قریبی اخبار 'The Hill' نے رپورٹ دی کہ 'امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ابراہیم معاہدے کو ایک تاریخی کامیابی کے جشن' کے برسوں بعد، یہ منصوبہ آج بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے؛ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ جاری ہے اور صہیونی ریاس کی پالیسیوں اور امریکی حکومت کی بے وفائیوں سے عرب عوام کے غصے میں اضافہ ہؤا ہے، چنانجہ معمول کاری (Normalization) کی نئی لہر کے بارے میں بات کرنا غیر حقیقت پسندانہ لگتا ہے۔

حصۂ دوئم:

ماہرین کا ماننا ہے کہ ابراہیم معاہدے ان بڑے اہداف کے حصول میں ناکام رہے جن کے لئے ان کا خاکہ تیار کیا گیا تھا۔ یہ معاہدے، اسرائیل اور چند عرب ممالک کے درمیان رسمی تعلقات قائم کرنے کے علاوہ، موجودہ تنازعات کو حل کرنے یا علاقائی کشیدگی کو ختم کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی فلسطین کے مسئلے کی نوعیت کو حل کر پائے ہیں۔

اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل کی جنگ نے معمول کاری کے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔ کیونکہ اس نے فلسطین کے مسئلے کو خطے میں عوامی اور سیاسی توجہ کی صف اول میں واپس لا کھڑا کیا ہے [جبکہ ابراہیم معاہدے فلسطین کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنا اور فلسطین کو عالمی تاریخ سے مٹا دینا تھا] چنانچہ غزہ جنگ نے متعدد حکومتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات فروغ دینے کا کوئی بھی عمل روک دیں یا سست کر دیں۔

ٹرمپ بعد میں، پسپائی اور توقعات کی سطح کم کرنے کی علامت کے طور پر، اپنے مطالبات میں تخفیف کرنے پر مجبور ہؤا اور یہ تسلیم کرنا پڑا کہ شاید کچھ ممالک ان معاہدوں میں شامل نہ ہوں، حالانکہ اس سے قبل اس نے اس کی توسیع کو علاقائی توازن کی نئی تشکیل کے لئے اپنے وژن کے حصے کے طور پر پیش کیا تھا!

امریکی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، ابتدائی معاہدہ جس پر ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں، [اور امریکی توقعات کی رو سے] جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کا دروازہ کھولنے پر مرکوز ہے، اور ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس، اس معاہدے کی دفعات میں ابراہیم معاہدے کی توسیع یا معمول کاری کا عمل علاقائی ممالک پر مسلط کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔

مبصرین کے مطابق، یہ موضوع اس بات پر زور دیتا ہے کہ معمول کاری کا منصوبہ ـ جسے واشنگٹن اور تل ابیب مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل کے لئے ایک ناگزیر راستے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ـ آج فلسطین کے خلاف اسرائیل کی جاری جنگ اور متعدد عرب و اسلامی ممالک کی طرف سے اپنے علاقائی مفادات کو اسرائیل کے ساتھ معمول کاری سے منسلک کرنے کی مخالفت، کے سائے میں، ایک مشکل آزمائش سے دوچار ہے۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: پریسا فیضی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha