28 مئی 2026 - 13:16
بندر عباس کے علاقے میں امریکی دشمن کے خلاف جوابی کاروائی  + ویڈیو / سپاہ پاسداران اور دفتر خارجہ کے بیانات

آج صبح سویرے سپاہ پاسداران نے بندر ہوائی اڈے کے قرب و جوار میں امریکی فضائی جارحیت میں ایک زبردست فضائی کاروائی میں اس اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے اس علاقے پر حملہ ہؤا تھا۔ اس کاروائی کی کچھ ابتدائی تصاویر شائع ہو گئی ہیں۔ / دہشت گرد امریکی فوج نے اس سے قبل پیر کی شب اور منگل کی صبح کو بھی بندر عباس کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا / وزارت خارجہ کا بیان: - جارحانہ دہشت گردی پر مبنی یہ امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے پیراگراف 4 کے ساتھ ساتھ آٹھ اپریل 2026ع‍ کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں؛ ان تمام جارحانہ اقدامات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے؛ بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی امریکی شر انگیزی کو جواب دیئے بغیر نہیں چھوڑیں گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج صبح سویرے جارح امریکی فوج نے بندرعباس کے ہوائی اڈے کے اطراف میں ایک مقام پر جارحیت کی جس کا زبردست جواب دیا گیا۔

بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب امریکی جارحوں کی فضائی پروجیکٹائل کے ذریعے جارحیت کے بعد، اس خطے میں اس امریکی فضائی اڈے کو صبح 04:50 بجے نشانہ بنایا گیا جہاں سے حملہ ہؤا تھا۔

سپاہ پاسداران کے اس آپریشن کی تصاویر پہلی بار جاری کی جا رہی ہیں۔

بندر عباس کے علاقے میں امریکی دشمن کے خلاف جوابی کاروائی  + ویڈیو / سپاہ پاسداران اور دفتر خارجہ کے بیانات

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ یہ جواب ایک سنگین انتباہ ہے تاکہ دشمن جان لے کہ جارحیت بلا جواب نہیں رہتی اور اگر اس نے دوبارہ جارحیت کی تو ہمارا جواب مزید سخت اور تباہ کن ہوگا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری جارح فریق (دہشتگر امریکی حکومت) پر عائد ہوتی ہے۔

دہشت گرد امریکی فوج نے اس سے قبل پیر کی شب اور منگل کی صبح کو بھی بندر عباس کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔اس سے قبل اس دہشت گرد فوج نے سپاہ پاسداران کی دو تیزرفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا جس میں چار فوجی شہید ہوئے۔ یہ کشتیاں امریکیوں کے خلاف ایک کامیاب جوابی کاروائی کی تکمیل کے بعد اپنے اڈوں میں واپس آ رہے تھے۔

واضح رہے کہ سپاہ پاسداران کے فضائی دفاع نے گذشتہ دنوں ایک آپریشن کے دوران ایک MQ-9 قسم کا امریکی جارح ڈرون تباہ کر دیا تھا اور علاقے کی طرف آنے والے دو امریکی دہشت گرد جارح پرندوں (ایک ایف 35 اور ایک RQ-4 کو ٹریک کرنے کے بعد انہیں انتباہ جاری کرکے مار بھگایا تھا۔

ایپسٹینی دہشت گردوں کی جارحیتوں پر وزارت خارجہ کا رد عمل:

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا:

- دہشت گرد امریکی فوج، جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اپنی غیرقانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، متعدد سمندری ڈکیتیوں کے واقعات کے ساتھ ساتھ، گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہرمزگان کے علاقے میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

- ان جارحانہ اقدامات نے، سفارتی عمل کے عین موقع پر، ایک بار پھر حکمران امریکی ٹولے کی بدعہدی کو عیاں کر دیا اور اس حقیقت کو عیاں کر دیا کہ امریکی حکومت پر اسلامی جمہوریہ ایران کا عدم اعتماد، اس کی انتقامی ذہنیت اور مجرمانہ اور معاندانہ نوعیت کے سلسلے میں  گہری فہم اور ادراک پر مبنی ہے۔

- ہم ان جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

- جارحانہ دہشت گردی پر مبنی یہ امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے پیراگراف 4 کے ساتھ ساتھ آٹھ اپریل 2026ع‍ کی جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور

- ان تمام جارحانہ اقدامات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

- بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی امریکی شر انگیزی کو جواب دیئے بغیر نہیں چھوڑیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha