ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کاری کی غرض سے پیش کردہ نام نہاد 'ابراہیم معاہدوں' کو دوسرے ممالک پر مسلط کرنے اور اسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے منسلک کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ٹرمپی خواہش ان ممالک کی مخالفت کی سخت دیوار سے ٹکرا گئی۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے اس منصوبے کی کمزوریوں کو پہلے سے بھی زیادہ، بے نقاب کر دیا، جبکہ واشنگٹن برسوں سے پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل ہو رہی ہے، اسرائیل کو خطے میں ضم کیا جائے گا اور معمول کاری کا عمل ان ہی خواہشات کی تکمیل کی تمہید ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں صہیونی ریاست کے ساتھ معمول کاری کی غرض سے پیش کردہ نام نہاد 'ابراہیم معاہدوں' کو دوسرے ممالک پر مسلط کرنے اور اسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے منسلک کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ٹرمپی خواہش ان ممالک کی مخالفت کی سخت دیوار سے ٹکرا گئی۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے اس منصوبے کی کمزوریوں کو پہلے سے بھی زیادہ، بے نقاب کر دیا، جبکہ واشنگٹن برسوں سے پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل ہو رہی ہے، اسرائیل کو خطے میں ضم کیا جائے گا اور معمول کاری کا عمل ان ہی خواہشات کی تکمیل کی تمہید ہے۔
ایران پرامریکی جارحیت نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا توازن بدلنے میں ایران کی حکمت عملی نے ابراہیم معاہدوں کی سیکیورٹی کی بنیادوں کو گرادیا ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ میں ناکام اور نااہل ہے اور عرب ممالک [ـ جن کی فکری نشوونما سست سمجھی جاتی ہے ـ] بھی [گویا] اس حقیقت کا ادراک کرسکے ہیں کہ درآمدی سلامتی [Imported security] پائیدار نہیں ہؤا کرتی؛ چنانچہ کہنا چاہئے کہ ایران نے عملی طور پر اس معاہدے کی بساط لپیٹ لی ہے۔
ایران پرامریکی جارحیت نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا توازن بدلنے میں ایران کی حکمت عملی نے ابراہیم معاہدوں کی سیکیورٹی کی بنیادوں کو گرادیا ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ میں ناکام اور نااہل ہے اور عرب ممالک [ـ جن کی فکری نشوونما سست سمجھی جاتی ہے ـ] بھی [گویا] اس حقیقت کا ادراک کرسکے ہیں کہ درآمدی سلامتی [Imported security] پائیدار نہیں ہؤا کرتی؛ چنانچہ کہنا چاہئے کہ ایران نے عملی طور پر اس معاہدے کی بساط لپیٹ لی ہے۔