اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک چھوٹی کشتی کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مہم کے تحت کی گئی، جس کے نتیجے میں کشتی میں سوار تین افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی جنوبی کمان (SOUTHCOM) کے بیان کے مطابق یہ حملہ 29 مئی کو "جوائنٹ ٹاسک فورس ساؤتھ اسپیئر" کی جانب سے جنرل فرانسس ایل ڈونووان کے حکم پر کیا گیا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کشتی منشیات کی اسمگلنگ کے ایک معروف راستے پر سفر کر رہی تھی اور اس کا تعلق ایک ایسے گروہ سے تھا جسے واشنگٹن دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کے حق میں کوئی عوامی ثبوت یا دستاویز پیش نہیں کی۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک تیز رفتار کشتی سمندر میں حرکت کرتی دکھائی دیتی ہے، جسے چند لمحوں بعد نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ویڈیو میں کشتی آگ کی لپیٹ میں آ جاتی ہے جبکہ بعد ازاں پانی میں کچھ لاشیں بھی تیرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ ایک ہفتے کے دوران اس نوعیت کی تیسری کارروائی ہے جس کا اعلان امریکی فوج نے کیا ہے۔
یہ سلسلہ گزشتہ سال ستمبر میں اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ لاطینی امریکہ کے منشیات فروش کارٹیلز اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف "مسلح تنازع" کی کیفیت میں ہے اور ان گروہوں کو امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت متعدد حملوں میں نشانہ بنائی گئی کشتیوں کے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے واضح اور قابلِ تصدیق شواہد عوام کے سامنے پیش نہیں کر سکی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ سے وابستہ بعض ماہرین اور انسانی حقوق کے عہدیداروں نے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں "ماورائے عدالت ہلاکتوں" کی مثال قرار دیا ہے اور ان واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ