20 مئی 2026 - 10:49
حصۂ دوئم | دشمن شاید طاقتور  نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے

سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ  (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم سورہ زمر کی آیات 11 تا 21 میں حق و باطل کے محاذوں کی حدود کو، واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ان آیات میں راستے کے انتخاب کی بات کی گئی ہے، ایسا انتخاب جو صرف دلی اعتقاد تک محدود نہیں، بلکہ عمل، اطاعت، استقامت اور دباؤ سے نمٹنے کے انداز میں خود کو ظاہر کرتا ہے۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ تفسیر المیزان اس حصے میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں اللہ کا دین بکھرے ہوئے انتخابوں کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ایسی حقیقت ہے جو انسان کو خدا کے حضور مکمل اخلاص تک پہنچاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصۂ دوئم:

طاقت کے وہم میں مبتلا دشمن ہی بڑا نقصان اٹھانے والا ہے

اطاعت کے راستے کی وضاحت کے بعد قرآن مخالف نقطے کی طرف جاتا ہے۔ سورہ زمر کی آیات 13 تا 15 میں پیغمبرؐ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا جاتا ہے کہ آپؐ خدا کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں اور پھر واضح خطاب پیش کیا جاتا ہے:

"قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصاً لَّهُ دِينِي * فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ؛

کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اس کے لئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے، * تو تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرو۔"

اس آیت کی ظاہری صورت سے ایک قسم کی "آزادیِ عمل" کا اظہار ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک طرح کی دھمکی اور انتباہ ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ راستہ روشن ہو چکا ہے اور حجت تمام ہو چکی ہے، چنانچہ اب ہر شخص اپنے انتخاب کا خود ذمہ دار ہے۔

پھر قرآن حقیقی نقصان کو متعارف کراتا ہے کہ:

"إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛

حقیقی نقصان اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گنوا دیا۔

یقینا [حقیقی] گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔"

شکست کے بارے میں قرآن رائے، معمول کے معیاروں سے مختلف ہے۔ بہت سے لوگ دنیا میں طاقت، دولت یا اثر و رسوخ رکھتے ہوں گے اور کامیاب دکھائی دیتے ہوں گے، لیکن قرآن دوسرا معیار پیش کرتا ہے۔ اصل خسارہ انسانی سرمائے کی تباہی ہے؛ یعنی انسان اپنی وجودی حقیقت کو گنوا بیٹھے۔

حق کے دشمن عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی مخالفین کو ظاہری طور پر منظرعام سے ہٹانے، دباؤ، پروپیگنڈے یا تسلط میں ہے؛ لیکن قرآن کا ارشاد ہے کہ جو شخص فطرت کا راستہ کھو دے، وہ کسی بھی ظاہری شکست سے پہلے اپنے اندر ہی شکست کھا چکا ہوتا ہے۔ یہ وہی نقصان ہے جو پھر قابل تلافی نہیں۔

اوپر اور نیچے سے آگ؛ دشمن کے انجام کی ہولناک تصویر

قرآن حقیقت کو ٹھوس، قابل پیمائش اور محسوس بنانے کے لئے باطل والوں کے انجام کی تصویر پیش کرتا ہے:

"لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ؛

ان کے لئے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہیں ان کے نیچے سے بھی ایسے ہی تختے ہیں [آگ کے]۔"

یہ تصویر دکھاتی ہے کہ الٰہی عذاب ہر طرف سے گھیرنے والا ہے اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تعبیر انسان پر اس کے اپنے اعمال کے نتائج کے مکمل احاطے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی انسان اپنے انتخابوں کے نتیجے سے بھاگ نہیں سکتا؛ اس کے اعمال خود ہی اس کی اگلی زندگی کے ماحول کو تشکیل دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha