سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
معاملہ محض صدق (سچ) اور کذب (جھوٹ) نہیں ہے! وہ واضح اور مسلّمہ اعداد و شمار کو بھی جھٹلا دیتے ہیں، ہر "صحیح کام پر حساسیت" پیدا کی جاتی ہے، حق کو پہچانتے ہیں پھر بھی قبول نہیں کرتے، بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ یہ محض جھوٹ نہیں ہے، یہ جَحْد (ضد پر مبنی انکار) اور تکذیب (جھٹلانا) ہے۔