بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کرنل ریٹائرڈ ڈگلس میک گریگور، نے ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کا مذاق اڑاتے ہوئے کیا کہ امریکہ کے پاس کوئی ترپ کا پتا باقی نہیں رہا ہے، وہ اپنی مرضی ایران پر مسلط نہیں کر سکتا اور اگر اس ملک کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرے تو ایران کا عزم اور طاقت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہؤا ہے اور مزید شدت اور وسعت کے ساتھ امریکی عزائم کو ناکام بنائے گا۔
ایران کے پاس عزم بھی ہے اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کی طاقت بھی
میک گریگور نے کہا:
امریکی حکمت عملی غیر مستحکم اور نامربوط ہے جس کی وجہ سے اس کی جنگ کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے، اس کے پاس کے وسائل میدانی حقائق سے تناسب نہیں رکھتے۔
جنگ کے دوبارہ آغاز کا امکان اس حقیقت سے جنم لیتا ہے کہ امریکہ دو متضاد راستوں میں گھرا ہؤا ہے: فوجی دباؤ میں اضآفہ کرنا، یا کسی کامیابی کے بغیر میدان جنگ سے نکلنا۔ مثلا فوجی دباؤ کو دوگنا کرنے کے حوالے سے وہ فیصلہ سازی کے مرحلے میں الجھا ہؤا ہے۔
ایران دوبارہ جنگ شروع کرنے والا ملک نہیں ہوگا لیکن اگر جنگ میں شدت آئے تو وہ بڑھتے ہوئے خطرے کا جواب دے سکتا ہے اور جنگ کو علاقے سے باہر تک پھیلا سکتا ہے اور امریکہ کی طرف سے جنگ میں جتنی شدت آئے گی ایران بھی اتنی ہی شدت سے جواب دے گا۔
امریکہ اگلے منظرناموں میں شکست کھائے گا
امریکہ کا فوجی نقطہ نظر بنیادی-تزویراتی خطا سے دوچار ہے، وہ سمجھتا ہے کہ جنگ کی شدت نتائج کو بدل دے گا، حالانکہ مخالف فریق کی نوعیت اس تصور کو باطل کر دیتی ہے۔ ایران ایک براعظم جتنا ملک ہے، جغرافیائی گہرائی رکھتا ہے، بڑی آبادی والا ملک ہے اور بے پناہ فوجی صلاحیت کا حامل ہے، جو بمباری یا زمینی فوج کی تعیناتیوں سے زوال پذیر نہیں ہوتا۔
امریکی زمینی فوج آبھی جائے تو ایران کے مقابلے میں اس کی کامیابی ناممکن نہيں ہے، بلکہ وہ مکمل طور منہدم ہوجائے گی۔
ایران کی میزائل اور ایئرڈیفنس سسٹم نے امریکی فضائی برتری کو ایک پریشان خواب، بنا دیا ہے
امریکہ اپنی فضائی برتری کا سہارا لیتا ہے جو اس افسانے پر استوار ہے کہ اس طرح اس کو افرادی نقصان نہیں پہنچے گا، اور وہ بمباریوں اور فاصلاتی حملوں سے کامیاب ہوگا۔ لیکن ایران کے ميزائلوں اور جدیدترین ایئرڈیفنس سسٹمز نے اس افسانے کو باطل کر دیا ہے؛ فضائی برتری چلتی بنی ہے اور ساتھ ہی امریکہ کے انتہائی مہنگے فوجی اڈے بھی ایران کے لئے آسانترین اہداف بن گئے ہیں۔ چنانچہ اگر امریکی پالیسی ساز اسی افسانے کو اپنے فیصلوں کی بنیاد بنانا چاہیں تو امریکہ کو غیر حقیقت پسندانہ اور انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار کریں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو باضابطہ سرکاری طور پر شکست کا علان کرنا چاہئے
ٹرمپ کے اعلان کردہ اہداف کے حصول کے لئے کوئی فوجی حل نہیں ہے، فضائی حملے اور زمینی فوج کی تعیناتی ایران کے عزم اور ڈھانچے کو توڑ نہیں سکتی؛ اور یہ سلسلہ جاری رکھنے سے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور کوئی تزویراتی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔
قبل اس کے، کہ امریکہ کو مزید بھاری نقصانات اٹھانا نہیں پڑے ہیں، ٹرمپ حقیقت کو تسلیم کرے اور تدریجی طور پر سفارتکاری اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے میدان سے نکلنے کی فکر کرے۔
میں مشورہ دیتا ہوں کہ ٹرمپ واضح طور پر اعلان کرے کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور مسئلے کے حل کے لئے فوجی اقدام چھوڑ کر سفارتکاری کا راستہ اپنانا چاہئے۔
یہ جنگ جاری رکھنے کی صورت میں امریکہ کی باقیماندہ ساکھ تباہ ہوجائے گی
جنگ جاری رہے گی اور امریکہ فیصلہ کن کامیابی تک پہنچے سے قاصر رہے گا، تو بین الاقوامی ترتیب میں امریکہ کی تسدیدی قوت (Deterrence) اور کمزور ہوگی، اور عالمی سطح پر اس 'سمجھ' تک پہنچیں کہ امریکہ فوجی برتری کے باوجود اپنی مرضی ایک علاقائی طاقت پر ٹھونسنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اس تصور کے اہم اثرات ہو سکتے ہیں: امریکہ کے رقبا بے باک ہو سکتے ہیں، امریکہ کے اتحادی کم ہوسکتے ہیں، اور بالآخر طاقت کے توازن امریکہ کے نقصان میں بگڑ جائے گا۔ یا یوں کہئے کہ جو جنک طاقت کی نمائش کے لئے شروع ہوئی تھی، جاری رہنے کی صورت میں امریکی طاقت کی محدودیت سمجھی جائے گی اور عالمی سطح پر امریکہ کے لئے الٹے اثرات پر منتج ہوجائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ