بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر، رضا امیری مقدم نے لکھا تھا: اس کے باوجود کہ ایرانی رائے عامہ صہیونی ریاست کی طرف سے ـ سفارت کاری میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ـ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے، شک و تردد سے دچار ہے، ایرانی وفد وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر، اپنے پیش کردہ 10 نکات پر سنجیدہ مذاکرات کے لئے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں ایرانی سفیر نے یہ پوسٹ تھوڑی دیر اپنے پیج سے ہٹا دی۔
ادھر اگرچہ کل رات جب ایران نے صہیونیوں کو سمجھوتے کی خلاف ورزی پر صہیونی ریاست کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ کی طرف سے ایران کو پیغام دیا کہ کاروائی نہ کرے کیونکہ امریکہ نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنے غنڈے کو نکیل دے گا، ایران نے ان کا بھرم رکھا اور کاروائی ملتوی کر دی لیکن صہیونیوں کی جارحیت بدستور جاری ہے اور انہوں نے لبنان کے ایک بڑے علاقے کو اگلے حملوں کو لئے خالی کرانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
چنانچہ عین ممکن ہے کہ ایران کا وفد پاکستان کا دورہ ملتوی کردے جس کی وجہ سے جنگ بندی نہ ہونے کا امکان ہے۔ اور یوں کہا جاسکے گا کہ امریکہ اپنے پاگل کتے کو باندھنے سے قاصر ہے یا پھر اس نے خود اسے حکم دیا ہے کہ جنگ بندی کو کامیاب نہ ہونے دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ