مذاکرات
-
وعدہ صادق-4؛
میدان جنگ اور سفارتکاری کے میدان ایران کے مقابلے میں امریکی شکست + تصویر
مغربی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کار، نیز مغربی اہلکار تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کو نہ صرف میدان میں فوجی اور تزویراتی شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے بلکہ اس کو مذاکرات کے میدان میں شکست اٹھانا پڑی ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
امن مذاکرات کا آغاز غیر یقینی صورتحال سے دوچار
گوکہ پاکستان میں ایرانی سفیر نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے دورہ اسلام آباد کی خبر دی تھی، یہ خبر ابہام سے دوچار ہوئی ہے۔
-
ایران امریکہ مذاکرات؛
امریکہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور ہؤا؛ لیکن کیوں؟
ٹرمپ نے بہت سی دھمکیوں، ہلڑ بازی اور ایران پر حملے کے ڈراموں کے بعد اچانک کہا کہ "چونکہ ایران نے مبینہ پھانسیوں کو روک دیا ہے، ہم فی الحال حملہ ملتوی کر رہے ہیں!"، تو رہبر انقلاب اسلامی نے اس کھیل کا بڑی ہوشیاری سے جواب دیا۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اس بیان کے بعد اپنے پہلے خطاب میں واضح طور پر فرمایا: "ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی ہے، فتنہ گر کی کمر بھی توڑ دے گی۔ نہ اندرونی مجرم چھوٹیں گے نہ بیرونی مجرم۔"
-
ایران امریکہ مذاکرات؛
سفارتی رابطوں کے عین موقع پر امریکی فوجی مہم؛ راز کیا ہے؟
ایران اور امریکہ کے درمیان نئی سفارتی بات چیت کے آغاز پر باخبر ذرائع نے خطے کے حالیہ واقعات کے پس پردہ نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔
-
اسرائیل شر مطلق،
"صہیونی ریاست کی 'بے پروائی'، سب کے لئے خطرہ ہے، سید عباس عراقچی
گوکہ بنیامین نیتن یاہو نے اس سال کے شروع میں امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک فوجی تصادم میں کھینچ لانے کا اپنا خواب پورا کر لیا، لیکن اس جارحیت کے بدلے اسرائیل کو بھاری اور بے مثال قیمت ادا کرنا پڑی / امریکیوں نے کھلم کھلا، تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک اتحادی نہیں، بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔
-
پاک افغان کشیدگی؛
افغان طالبان کا پاکستان کی جانب مفاہمتی اشارہ، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، سراج حقانی
پاکستان کے لیے مفاہمتی پیغام کے طور پر عبوری افغان طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کے لئے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے تیار ہے۔
-
امریکہ اور یورپ سے التجا؛
بات چیت کرو تاکہ اسرائیلیوں کو ایرانی میزائلوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسرائیلی میڈیا + ویڈیو اور تصاویر
صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے ایران کے میزائل حملوں کے بعد اس ریاست کو ہونے والے وسیع نقصانات کا ذکر کیا ہے اور ان نقصانات کے معاشی بوجھ کو بہت زیادہ اور ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ / ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کرنے والی غاصب ریاست کو اب اندازہ ہو گیا ہے کہ ایران کوئی تر نوالہ نہیں ہے اور اگر اس ریاست کے جینے کا واحد راستہ یہ ہے کہ مغرب ایران کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچے اور تل ابیب بھی اس مفاہمت کو غنیمت سمجھ کر اپنی اوقات میں رہے۔