بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || وعدہ صادق-4 کی 96ویں لہر کے سلسلے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ کا اعلان:
بسم الله الرحمن الرحیم
فمن اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ
سپاہ پاسداران نے وعدہ صادق-4 کی 96ویں لہر میں کرج کے پل بی1 اور ماہ شہر کے پٹروکیمیکل کمپلیکس پر امریکی صہیونی دشمن کی اعلانیہ جارحیت کے جواب میں خاص فوجی ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے اقتصادی اور صنعتی مفادات پر انتقامی حملے بھی کئے۔
یہ کاروائی کوڈ نیم "یا رقیہ(س)" سے شروع ہوئی اور اور شہید بچیوں کے نام کی گئی۔
اس کاروائی میں ابتدائی طور پر مقبوضہ سرزمین میں صہیونی اہداف کو نیست و نابود کیا گیا اور خطے کے ممالک میں امریکی اقتصادی مفادات کو آگ کے شعلوں سے آشنا کیا گیا، جیسے:
1۔ حیفا میں طفل کش صہیونی ریاست کے جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والی ریفائنری کے مرکزی شعبوں کو وسیع پیمانے پر، تباہ کیا گیا۔
2۔ حبشان-امارات میں ایکسن موبل ( Exxon Mobil) اور شیورن (Chevron) گیس تنصیبات
3۔ الرویس-امارات میں امریکی فوج کے لئے ایندھن کا مواد اور صہیونی ریاست کے لئے فوجی مصنوعات تیار کرنے والی پیٹروکیمیکل کمپنی، جو وسیع پیمانے پر آتش زدگی سے دوچار ہوئی۔
4۔ بحرین کے سترہ جزیرے میں امریکی فوج کے لئے تیل کی مصنوعات تیار کرنے والے پیٹروکمیکلز پر بھاری ڈرون حملہ، جس میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
5۔ کویت میں امریکی مسلح افواج کے ساتھ تعاون کرنے والی پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ، اس کمپلیکس میں وسیع پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔
دشمن سیکورٹی، عسکری، بحری اور زمینی محاذ پر شکست کھا گیا ہے اور ان شعبوں میں کچھ کرنے کا قابل نہیں رہا ہے، فضائی میدان میں اس کے طیارے اور ڈرونز مسلسل مار گرائے جا رہے ہیں اور ایرانی فضا پر اس کے تسلط کے دعوؤں نے اسے ذلیل و رسوا کر دیا ہے، تو اب اس نے اپنی شکستوں اور ناکامیوں کو چھپانے کے لئے شہری اور غیر فوجی تنصیبات پر حملوں کا سہارا لیا ہے۔
دشمن کو جان لینا چاہئے کہ ایران کے سول ڈھانچوں پر جارحیت کے جواب میں جو کچھ ہؤا، وہ اس جواب کا محض پہلا مرحلہ تھا جس کی ہم نے پہلے تنبیہ دی تھی۔ اس نے اپنی حماقت پر اصرار کرتے ہوئے سول ڈھانچوں پر دوبارہ حملہ کرکے، حیفا، حبشان، الرویس، شعبیہ اور سترہ وسیع آتشزدگیوں کے اسباب فراہم کئے۔ ہم نے پیشگی اعلان کیا تھا کہ شہری ڈھانچوں پر حملے کا کئی گنا بڑا جواب خطے میں کہیں بھی، دیا جائے گا۔
سول ڈھانچوں پر حملہ دہرایا جائے تو اس کاروائی کا دوسرا مرحلہ کہیں زیادہ تباہ کن اور وسیع ہوگا اور اس رویے پر اصرار کی صورت میں اس کی شدت اور وسعت میں کئی گنا اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ کیونکہ ہم ایک طرف سے دشمن کے جواب میں انتقامی کاروائیاں بھی کرتے رہیں گے اور بہت جلد انہیں مجبور کریں گے کہ ان غیر قانونی جارحیتوں کا معاوضہ بھی ادا کریں۔
"وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ