بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یورپ میں امریکی فوج کے سابق کمانڈر بریگیڈیئر مارک ہرٹلنگ نے ایم ایس نو (MS-NOW) سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: امریکی فوج کے سیئر افسران 'کمانڈر انچیف' کے طور پر ٹرمپ کی نافرمانی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ہرٹلنگ نے یہ بات ایران کے سول ڈھانچوں (جیسے پلوں، بجلی گھروں وغیرہ) کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کے حوالے سے کہی جو کہ قانون دانوں کے مطابق جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشنوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں شمار ہوجائیں۔
ہرٹلنک کہتا ہے کہ امریکی فوجیوں کے حلف نامے میں سب سے پہلے آئین سے وفاداری کا عنوان درجہ ہے نہ کہ صدر کی ذات سے۔ ان کا فریضہ ہے کہ غیر قانونی احکامات کی تعمیل نہ کریں۔
مارک ہرٹلنک نے کہا: ٹرمپ کے پاس "فتح" کے لئے کوئی واضح تعریف نہیں ہے۔
ہرٹلنگ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکی فوج کا دشمن ایرانی میزائل نہیں ہیں بلکہ ہماری فوج کا اصل دشمن وہ غیر یقینی صورت حال ہے جو وائٹ ہاؤس پر حکم فرما ہے۔
ہرٹلنگ کا کہنا تھا: ٹرمپ آبنائے ہرمز نہیں کھول سکتا اور وہ دوسرے ممالک سے مدد مانگتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس بحران کے لئے منصوبہ بندی نہیں کی تھی اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی طرف کی عدم منصوبہ بندی کی قیمت دوسرے ممالک ادا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ویڈیو کی تفصیل:
میں 40 سال سے ایک سپاہی اور ایک تربیت یافتہ کمانڈر ہوں، جب آپ امریکی فوج کے کمانڈر ہوتے ہیں، چند چیزوں کے وفادار ہوتے ہیں؛ سب سے اہم یہ کہ آپ آئین کے وفادار ہیں۔ نیز آپ اپنے سینئر کے وفادار ہیں۔ بشرطیکہ اگر سینئرز قانونی ہدایات دیں۔
لیکن جب وہ غیر قانونی احکامات دینا شروع کریں، تو آپ کوئی راستہ تلاش کریں گے کہ ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور مطمئن ہوجائیں کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح کریں۔
علاوہ ازیں ان سپاہیوں کے بھی وفادار ہیں، جو آپ کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ یہ تین وفاداریاں کبھی باہم متضاد ہوتی ہیں۔
میں مطمئن ہوں کہ اس وقت بہت سے فوجی کمانڈر اور سینئر افسران ہیں جو دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ "میں ایک غیر قانونی حکم کی پیروی نہیں کر سکتا"۔
میں ایسا کوئی بھی کام کر سکتا ہوں جو میں جانتا ہوں مکمل طور پر غلط ہے، لیکن اسی حال میں محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ماتحت فوجیوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے، وہی لوگ جو استعفیٰ نہیں دے سکتے اور فوج میں رہنے پر مجبور ہیں، اور شاید انہیں ان حالات میں ایک اٹھان بھی دیکھنا پڑے [اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ