14 مارچ 2026 - 22:38
ایک جھوٹی حسرت؛ ہم امارات یا سعودی عرب جیسے کیوں نہیں ہیں؟

اب بھی وقت ہے البتہ ان ریاستوں کے پاس، کہ اپنے مسلمان عوام کی عزت پلٹا دیں، انسانیت کے دشمنوں کو مسلمانوں کی قلمرو سے نکال باہر کریں، اور جان لیں کہ ان کے لئے عرب اور عجم اور سنی اور شیعہ، سب جائز اہداف ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرتے۔ وہ گریٹر اسرائیل بنانے کے لئے عربوں کی بڑی قربانی دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ قصہ عرب ریاستوں تک محدود نہیں ہے اسی ڈگر پر چلنے والے دوسرے بھی ہیں انہیں بھی لامحالہ سوچنا پڑے گا۔ ایران پر حملہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے، ان تمام ممالک کے لئے جو اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنے کی حسرت رکھتے ہیں۔ شاید یہ وہ انوکھا موقع ہو بہت سوں کے لئے تاریخی غلامی سے نجات کے لئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ئی لوگ کہتے تھے کہ ایران امارات اور سعودی عرب جیسا کیوں نہیں ہے؟

ایک ایرانی مضمون نویس 'محسن مہدیان' نے لکھا:

عجب زمانہ ہؤا ہے، جنگ ختم ہوگی تو موقع میسر ہوجائے گا، کہ ہم تاریخ کے لئے ایک سبق تحریر کریں۔

ہم سے کہا جاتا تھا کہ دبئی کیا سے کیا بن گیا ہے، ریاض کہاں سے کہاں پہنچا ہے، کیا کیا عمارتیں، مال سینٹرز، بجلی، ہارن، ٹاورز وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ایران ان کی طرح کیوں نہیں ہؤا؟

آج ذرا خبروں کو دیکھ لیں، اب ان ایرانی میزائلوں کے بعد مستقبل کا امارات ماضی کا امارات نہیں بن سکے گا۔۔

جو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے انہیں، بہت اچھی بات ہے کہ ان دنوں کو غور سے دیکھ لیں۔

یہ لاچار ممالک، جن سے ٹریلین ڈالر وصول کئے گئے، ان کی سرزمینوں میں فوجی اڈے بنائے گئے یہ کہہ کہ "ہم امریکی یہ سب تمہاری حفاظت کے لئے کر رہے ہیں، اور اب معلوم ہؤا کہ یہ سب اسرائیل کی حفاظت کے لئے اور ایران سے لڑنے کے لئے بنا تھا، گوکہ اخراجات ان لاچار ریاستوں کو ادا برداشت کرنا پڑے اور برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، لگتا ہے اس جنگ کے اخراجات بھی ان ہی کو ادا کرنا پڑیں گے، کتنے لاچار و عاجز و بے بس ہیں یہ ارب پتی حکومتیں اور کھرب پتی حکمران!

یہ ریاستیں اب منہ کھول کر حالات کا نظارہ کر رہے ہیں،

مسلوب الارادہ (چھنے ہوئے ارادوں کے ساتھ)

نہ جواب کی جرات نہ ہی جواب دینے کی طاقت! 

حتی کہ تنقید و احتجاج کی زبان بھی نہیں ہے ان کے منہ میں۔

جب ایک ملک عاریتیں لے کر، غبارے کی طرح پھل پھول جاتا ہے اور اس کا انتظام واشنگٹن کے ارادے سے ہو رہا ہے، اس کا انجام یہی خفت ہے۔

جو ملک عملی طور پر اپنے آقا کی نوآبادی بن گیا ہے

آخرکار کھڑے ہوکر دیکھتا رہتا ہے۔

جب حقیقی ترقی کے بجائے، صرف مال و دولت لٹانے، ٹاور بنانے، شوکیس بننے اور برانڈ بننے کو اپنی پہلی ترجیح بناؤ گے

جب سوچ لوگے  کہ چند اونچی اونچی عمارتیں بنا کر ایک "ملک" بنا سکو گے،

اب پہنچو گے بند گلی میں۔

جب اپنے عوام کو اس قدر بے قدر و قیمت دیکھوگے کہ گاہک ہیں یا صارف، اور بس!

تو اپنے عوام کی حمایت اور شہری احتجاج پر بھی کھاتہ نہیں کھول سکو گے۔

جب اپنے ملک کو دنیا کے صاحبان ثروت کا تفریحی پارک بناؤگے،

نہ اپنے عوام کا وطن،

تو کوئی بھی تمہارے لئے کچھ خرچ کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

جس بیرونی سرمایے پر خوش ہوتے رہے ہو وہ [سرمایہ] بھی پہلے میزائل حملے کے سائرن کے ساتھ اڑ کر مہاجر پرندوں کی طرح، دوسری منڈیوں کی طرف منتقل ہوگا، کیونکہ تم نے بھی اپنے ملک کو منڈی بنایا ہؤا تھا، نہ کہ ایک "ملک"

جب تم نے اپنے ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹ لیا ہو، کچل دیا ہوں اور معاشرے کو سانس لینے کی اجازت نہ دی ہو،

اب اس مرحلے میں تم خود بھی گونکے پن کا شکار ہوجاؤگے؛

مارے پیٹے جاؤگے، اور پھر بھی سینسر شپ کا سہارا لوگے کہ کوئی تمہارا بگڑا ہؤا حلیہ نہ دیکھ سکے!

اس سے بھی بڑھ کر، جب تم نے اپنا ملک سونے کی تھالی میں رکھ کر امریکہ کے سامنے پیش کیا ہو،

اب تمہیں امریکی اڈوں کے خوار و ذلیل ہونے کا خرچہ بھی اپنی جیب سے دینا پڑے گا۔

وہ اڈے جو بظاہر تمہارے تحفظ کے لئے بنے تھے لیکن خود امریکیوں کی حفاظت بھی نہ کرسکے، تمہارا ملک تو اڈہ ہی تھا، اس کی حفاظت کا تو کوئی حوالہ ہی نہیں ہے۔

یہی وہ شوکیس لائف اور وہی حیوانی زندگی ہے جو کچھ لوگوں کے لئے دلکش ہے بہر حال!

وہی دنیا جو کہتے تھے کہ، ایران امریکہ کے ساتھ صلح کیوں نہیں کرتا تاکہ امارات یا سعودی عرب کے ہم شکل ہوجائے۔

بہرحال ایرانی عوام مختلف ہیں، صاحب عزت ہیں، دو نوالے زیادہ حاصل کرنے کے لئے، خفت برداشت نہیں کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکتے کی بات:
اب بھی وقت ہے البتہ ان ریاستوں کے پاس، کہ اپنے مسلمان عوام کی عزت پلٹا دیں، انسانیت کے دشمنوں کو مسلمانوں کی قلمرو سے نکال باہر کریں، اور جان لیں کہ ان کے لئے عرب اور عجم اور سنی اور شیعہ، سب جائز اہداف ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرتے۔ وہ گریٹر اسرائیل بنانے کے لئے عربوں کی بڑی قربانی دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ قصہ عرب ریاستوں تک محدود نہیں ہے اسی ڈگر پر چلنے والے دوسرے بھی ہیں انہیں بھی لامحالہ سوچنا پڑے گا۔ ایران پر حملہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے، ان تمام ممالک کے لئے جو اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنے کی حسرت رکھتے ہیں۔ شاید یہ وہ انوکھا موقع ہو بہت سوں کے لئے تاریخی غلامی سے نجات کے لئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محسن مہدیان

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha