امریکہ کے گماشتے
-
وعدہ صادق-4؛
متحدہ عرب امارات کی معیشت ڈوب رہی ہے
مڈل ایسٹ آئی نے لکھا: اسرائیل اور امریکہ جنگ نے امارات کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے اور ابوظہبی اور دبئی کی منڈیوں کی قدر میں سے 120 ارب ڈالر نابود ہو گئے ہیں۔
-
وعدہ صادق-4؛
وعدہ صادق- 4 کی 87ویں لہر، دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مراکز کو ڈرونز کے اور اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، سپاہ پاسداران
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نےاعلان کیا کہ یہ کاروائی مبارک کوڈ نیم "یا ابا عبداللہ الحسین(ع)" سے شروع ہوئی اور دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مراکز، ڈرونز کے اور اسلحے کے گوداموں پر مشتمل ہینگرز، دہشت گرد امریکی ـ صہیونی فوجیوں اور جنگی طیاروں کے پائلٹوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
-
وعدہ صادق-4؛
ملک یا سرمایہ داری نظام کے شو کیس؟
اب بھی وقت ہے البتہ ان ریاستوں کے پاس، کہ اپنے مسلمان عوام کی عزت پلٹا دیں، انسانیت کے دشمنوں کو مسلمانوں کی قلمرو سے نکال باہر کریں، اور جان لیں کہ ان کے لئے عرب اور عجم اور سنی اور شیعہ، سب جائز اہداف ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرتے۔ وہ گریٹر اسرائیل بنانے کے لئے عربوں کی بڑی قربانی دینے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ قصہ عرب ریاستوں تک محدود نہیں ہے اسی ڈگر پر چلنے والے دوسرے بھی ہیں انہیں بھی لامحالہ سوچنا پڑے گا۔ ایران پر حملہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے، ان تمام ممالک کے لئے جو اپنا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنے کی حسرت رکھتے ہیں۔ شاید یہ وہ انوکھا موقع ہو بہت سوں کے لئے تاریخی غلامی سے نجات کے لئے۔
-
وعدہ صادق-4؛
جنگ رمضان 1447
مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور ٹھکانوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کے حملوں کے تسلسل میں جبل علی بندرگاہ کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد DP Word گروپ نے ایک بیان جاری کرکے اس بندرگاہ کی عارضی بندش کا اعلان کیا۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
یہ اہل تشیّع اور ایران کے خلاف منظم جنگ ہے؛ یا دجال کامیاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی، تماشائی بخیریت نہ رہیں گے، شیعہ مصری مفکر
ڈاکٹر راسم النفیس نے کہا ہے: "لنڈسے گراہم نے ان کا پردہ فاش کر دیا، جب انھوں نے اعلان کیا کہ جو جنگ اس وقت جاری ہے، وہ ایک دینی اور مذہبی جنگ ہے؛ یعنی حقیقی محمدیؐ اسلام کے خلاف مغربی دنیا کی جنگ، اس دجال کے مفاد میں، جس کو "ابراہیمی" کا نام دیا گیا ہے، اور یہ تاریخی لمحہ، ایک فیصلہ کن لمحہ ہے: یا دجال فتح یاب ہوگا یا اسے حتمی شکست ہوگی۔"
-
طفل کُشی کو نوبل امن انعام دینے کی ناکام تجویز؛
تصویری خبر | ٹرمپ کا ذائقہ کڑوا ہوگیا، انعام کسی اور کو ملا
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سید علی موسوی نامی میڈیا کارکن نے X (ٹویٹر) پر لکھا: نوبل امن انعام حاصل کرنے کی تمام نمائشی کوششیں اور مہنگی لابنگ کا پھل ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں ملا۔۔۔ جو خود کو سب سے زیادہ مستحق سمجھتے تھے اور پاکستان سے لے کر مصر اور اسرائیل تک، اتحادی ممالک کے رہنما ٹرمپ کی حمایت کے لئے مہم چلا رہے تھے، وہ پھر سے ناکام رہے۔۔۔ لیکن 2025 کا نوبل انعام وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو ملا ہے۔/ کسی اور نے لکھا: اگر نوبل امن انعام ٹرمپ کو دیا جاتا، تو پھر "امن" کی تعریف پر نظرثانی کرنا پڑتی؛ یقینا جو شخص پابندیوں کی 'دیوار' اور 'جنگ'، 'وزارت جنگ'، 'دنیا کو امریکی بنانے' جیسے تفکرات سے جانا جاتا ہے وہ کیونکر نوبل کے امن انعام کا مستحق ہو سکتا ہے۔ ، وہ امن کی علامت نہیں ہو سکتا۔
-
قطری امیر کی اہلیہ اور ٹرمپ کی ویڈیو عرب میڈیا پر وائرل / سوشل میڈیا پر رد عمل/ ایک وضاحت:
قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ان کی اہلیہ شیخہ جواہر بنت حمد الثانی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی مختصر ویڈیو عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس پر صارفین نے اظہار برہمی بھی کیا۔